السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الزكاة— زکوۃ کا بیان
باب: من حمل هذه الأخبار على أنها تعطيه من الطعام الذي أعطاها زوجها وجعله بحكمها دون سائر أمواله استدلالا بأصل تحريم مال الغير إلا بإذنه باب: ان ائمہ کا بیان جنھوں نے ان احادیث کو اس بات پر محمول کیا کہ عورت اس کھانے میں سے صدقہ کرے جو اس کے شوہر نے اسے دیا ہو اور اس کے اختیار میں کر دیا ہو، نہ کہ اس کے دیگر اموال میں سے، اس بنیادی اصول سے استدلال کرتے ہوئے کہ دوسرے کا مال اس کی اجازت کے بغیر حرام ہے۔
حدیث نمبر: 7856
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، ثنا شُرَحْبِيلُ بْنُ مُسْلِمٍ الْخَوْلَانِيُّ، سَمِعَ أَبَا أُمَامَةَ، يَقُولُ: شَهِدْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: وَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَفِيهِ: " أَلَا لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ أَنْ تُعْطِيَ مِنْ مَالِ زَوْجِهَا شَيْئًا إِلَّا بِإِذْنِهِ " فَقَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللهِ، وَلَا الطَّعَامَ؟ قَالَ: " ذَاكَ أَفْضَلُ أَمْوَالِنَا ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حجۃ الوداع میں شریک ہوا، میں نے سنا کہ آپ ﷺ کہہ رہے تھے... پھر حدیث بیان کی، نیز فرمایا: ”خبردار! کسی عورت کو جائز نہیں کہ وہ اپنے خاوند کے مال میں سے کچھ بغیر اجازت کے دے۔“ تو ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! کھانا بھی نہیں؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ ہمارے عمدہ اموال میں سے ہے۔“