السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الزكاة— زکوۃ کا بیان
باب: من حمل هذه الأخبار على أنها تعطيه من الطعام الذي أعطاها زوجها وجعله بحكمها دون سائر أمواله استدلالا بأصل تحريم مال الغير إلا بإذنه باب: ان ائمہ کا بیان جنھوں نے ان احادیث کو اس بات پر محمول کیا کہ عورت اس کھانے میں سے صدقہ کرے جو اس کے شوہر نے اسے دیا ہو اور اس کے اختیار میں کر دیا ہو، نہ کہ اس کے دیگر اموال میں سے، اس بنیادی اصول سے استدلال کرتے ہوئے کہ دوسرے کا مال اس کی اجازت کے بغیر حرام ہے۔
حدیث نمبر: 7855
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ الْإِسْفَرَايِينِيُّ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ زِيَادِ بْنِ لَاحِقٍ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي تَمِيمَةُ بِنْتُ سَلَمَةَ، أَنَّهَا أَتَتْ عَائِشَةَ فِي نِسْوَةٍ مِنْ أَهْلِ الْكُوفَةَ، قَالَتْ: فَسَأَلَتْهَا امْرَأَةٌ مِنَّا فَقَالَتْ: الْمَرْأَةُ تُصِيبُ مِنْ بَيْتِ زَوْجِهَا شَيْئًا مِنْ غَيْرِ إِذْنِهِ فَغَضِبَتْ وَقَطَبَتْ وَسَاءَهَا مَا قَالَتْ، قَالَتْ: " لَا تَسْرِقِي مِنْهُ ذَهَبًا وَلَا فِضَّةً وَلَا تَأْخُذِي مِنْ بَيْتِهِ شَيْئًا " وَذَكَرَ الْحَدِيثَ.حافظ ثناء اللہ
تمیمہ بنت سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ وہ کوفے کی عورتوں کے ساتھ آئیں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس اور ایک عورت نے ان میں سے سیدہ سے سوال کیا کہ اگر عورت اپنے خاوند کے گھر سے کوئی چیز لیتی ہے بغیر اجازت سے تو وہ غصے میں آ گئیں اور اسے برا بھلا کہا اس پر جو اس نے کہا تھا تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: نہ چوری کر اس کے گھر میں سے سونے چاندی اور نہ ہی کسی اور چیز کی۔۔۔ آگے پوری حدیث بیان کی۔