السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الزكاة— زکوۃ کا بیان
باب: من حمل هذه الأخبار على أنها تعطيه من الطعام الذي أعطاها زوجها وجعله بحكمها دون سائر أمواله استدلالا بأصل تحريم مال الغير إلا بإذنه باب: ان ائمہ کا بیان جنھوں نے ان احادیث کو اس بات پر محمول کیا کہ عورت اس کھانے میں سے صدقہ کرے جو اس کے شوہر نے اسے دیا ہو اور اس کے اختیار میں کر دیا ہو، نہ کہ اس کے دیگر اموال میں سے، اس بنیادی اصول سے استدلال کرتے ہوئے کہ دوسرے کا مال اس کی اجازت کے بغیر حرام ہے۔
حدیث نمبر: 7857
وَرَوَى لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَقِّ الزَّوْجِ عَلَى امْرَأَتِهِ، قَالَ: " لَا تُعْطِي مِنْ بَيْتِهِ شَيْئًا إِلَّا بِإِذْنِهِ فَإِنْ فَعَلَتْ ذَلِكَ كَانَ لَهُ الْأَجْرُ وَعَلَيْهَا الْوِزْرُ " أَخْبَرَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا جَرِيرٌ، عَنْ لَيْثٍ فَذَكَرَهُ.حافظ ثناء اللہ
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی کریم ﷺ سے بیان کرتے ہیں خاوند کے بیوی پر جو حقوق ہیں اُن کے بارے میں کہ ”وہ اس کے گھر میں سے اس کی اجازت کے بغیر کچھ بھی نہ دے۔ اگر وہ ایسا کرے گی تو اس کے لیے اجر ہوگا اور بیوی پر گناہ ہوگا۔“