السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الزكاة— زکوۃ کا بیان
باب: من حمل هذه الأخبار على أنها تعطيه من الطعام الذي أعطاها زوجها وجعله بحكمها دون سائر أمواله استدلالا بأصل تحريم مال الغير إلا بإذنه باب: ان ائمہ کا بیان جنھوں نے ان احادیث کو اس بات پر محمول کیا کہ عورت اس کھانے میں سے صدقہ کرے جو اس کے شوہر نے اسے دیا ہو اور اس کے اختیار میں کر دیا ہو، نہ کہ اس کے دیگر اموال میں سے، اس بنیادی اصول سے استدلال کرتے ہوئے کہ دوسرے کا مال اس کی اجازت کے بغیر حرام ہے۔
حدیث نمبر: 7854
وَأَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْحَرْصِيُّ، أنبأ أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ أَيُّوبَ الصِّبْغِيُّ، ثنا سَهْلُ بْنُ عَمَّارٍ، ثنا أَبُو غَسَّانَ مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ النَّهْدِيُّ، ثنا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أُمِّ حُمَيْدِ بِنْتِ الْعَيْزَارِ، عَنْ أُمِّهَا أُمِّ عَفَارٍ، عَنْ ⦗٣٢٥⦘ ثُمَامَةَ بِنْتِ شَوَّالٍ، قَالَتْ: سَأَلْتُ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ عَائِشَةَ وَحَفْصَةَ وَأُمَّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُنَّ، مَا يَحِلُّ لِلْمَرْأَةِ مِنْ بَيْتِ زَوْجِهَا؟ فَرَفَعَتْ كُلُّ وَاحِدَةٍ مِنْهُنَّ مِنَ الْأَرْضِ عُودًا، ثُمَّ قَالَتْ: " لَا، وَلَا مَا يَزِنُ هَذَا إِلَّا بِإِذْنِهِ ".حافظ ثناء اللہ
ثمامہ بنت شوال رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں نے ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا، حفصہ رضی اللہ عنہا اور ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ عورت کے لیے اس کے خاوند کے گھر میں سے کیا جائز ہے؟ ان میں سے ہر ایک نے لکڑی اٹھائی اور کہا کہ نہیں، اس کے وزن کے برابر بھی نہیں مگر اس کی اجازت سے۔