السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الزكاة— زکوۃ کا بیان
باب: وجوه الصدقة، وما على كل سلامى من الناس منها كل يوم باب: صدقہ کی مختلف صورتوں کا بیان، اور یہ کہ ہر روز انسان کے ہر جوڑ پر صدقہ لازم ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ثنا حَاجِبُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ حَمَّادٍ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ أَبِي كَبْشَةَ الْأَنْمَارِيِّ، قَالَ: " ضَرَبَ لَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَثَلَ الدُّنْيَا مَثَلَ أَرْبَعَةٍ مِنَّا، رَجُلٌ آتَاهُ اللهُ عِلْمًا وَآتَاهُ مَالًا فَهُوَ يَعْمَلُ بِعِلْمِهِ فِي مَالِهِ، وَرَجُلٌ آتَاهُ اللهُ عِلْمًا وَلَمْ يُؤْتِهِ مَالًا فَهُوَ يَقُولُ: لَوْ آتَانِيَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ مِثْلَ مَا أُوتِيَ فُلَانٌ لَفَعَلْتُ فِيهِ مِثْلَ مَا يَفْعَلُ، فَهُمَا فِي الْأَجْرِ سَوَاءٌ، وَرَجُلٌ آتَاهُ اللهُ مَالًا وَلَمْ يُؤْتِهِ عِلْمًا، فَهُوَ يَمْنَعُهُ مِنْ حَقِّهِ وَيُنْفِقُهُ فِي الْبَاطِلِ، وَرَجُلٌ لَمْ يُؤْتِهِ اللهُ عِلْمًا وَلَا مَالًا، فَهُوَ يَقُولُ: لَوْ أَنَّ اللهَ آتَانِي مِثْلَ مَا أُوتِيَ فُلَانٌ لَفَعَلْتُ فِيهِ مِثْلَ مَا يَفْعَلُ، فَهُمَا فِي الْوِزْرِ سَوَاءٌ ". كَذَا رَوَاهُ الْأَعْمَشُ -.سیدنا ابو کتبہ انصاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمارے سامنے دنیا کی مثال بیان کی اور ہم میں سے چار آدمیوں کو مثال میں بیان فرمایا: ”وہ شخص جسے اللہ نے علم عطا کیا اور مال بھی دیا تو وہ اپنے مال میں سے علم کے مطابق خرچ کرتا ہے؛ اور ایک وہ شخص جسے اللہ نے علم دیا، لیکن مال نہیں دیا، تو وہ کہتا ہے: اگر اللہ مجھے اسی طرح عطا کرے جیسے فلاں کو دیا ہے تو میں اس میں ایسے ہی کرتا جس طرح وہ کرتا ہے، تو وہ دونوں اجر میں برابر ہیں؛ اور ایک وہ شخص جسے مال دیا گیا مگر اس کے پاس علم نہیں تو وہ اسے اس کے حق سے روک لیتا ہے اور باطل طریقے سے خرچ کرتا ہے؛ اور ایک وہ شخص جسے اللہ نے علم نہیں دیا اور نہ ہی مال دیا ہے تو وہ کہتا ہے: اگر اللہ مجھے عطا کر دے جو فلاں کو دیا گیا ہے تو میں بھی اس میں ایسے ہی کرتا جیسے فلاں کرتا ہے، تو وہ دونوں بوجھ میں برابر ہیں۔“