حدیث نمبر: 7774
بَابُ مَا يُسْتَدَلُّ بِهِ عَلَى أَنَّ قَوْلَهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " خَيْرُ الصَّدَقَةِ مَا كَانَ عَنْ ظَهْرِ غِنًى " وَقَوْلَهُ حِينَ سُئِلَ عَنْ أَفْضَلِ الصَّدَقَةِ: " جَهْدٌ مِنْ مُقِلٍّ " إِنَّمَا يَخْتَلِفُ بِاخْتِلَافِ أَحْوَالِ النَّاسِ فِي الصَّبْرِ عَلَى الشِّدَّةِ وَالْفَاقَةِ وَالِاكْتِفَاءِ بِأَقَلِّ الْكِفَايَةِ، وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ.
حافظ ثناء اللہ

اس دلیل کا باب کہ آپ ﷺ کا یہ فرمان: ”بہترین صدقہ وہ ہے جو غنا (مالداری) کی حالت میں ہو۔“ اور جب آپ ﷺ سے افضل ترین صدقے کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ ﷺ کا یہ فرمان: ”تنگدست کا اپنی محنت کی کمائی سے کچھ دینا۔“ (ان دونوں احادیث میں) یہ اختلاف دراصل تنگی اور فاقہ کشی پر صبر کرنے اور کم سے کم ضرورت پر اکتفا کرنے کے حوالے سے لوگوں کے احوال کے مختلف ہونے کی بنا پر ہے، اور اللہ کی توفیق ہی سے سب کچھ ہے۔

أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ دِينَارٍ الْعَدْلُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ نَصْرٍ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ: أَمَرَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا أَنْ نَتَصَدَّقَ، فَوَافَقَ ذَلِكَ مَالًا عِنْدِي، فَقُلْتُ: الْيَوْمَ أَسْبِقُ أَبَا بَكْرٍ إِنْ سَبَقْتُهُ يَوْمًا، فَجِئْتُ بِنِصْفِ مَالِي، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا أَبْقَيْتَ لِأَهْلِكَ " فَقُلْتُ: مِثْلَهُ، قَالَ: فَأَتَى أَبُو بَكْرٍ بِكُلِّ مَا عِنْدَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا أَبْقَيْتَ لِأَهْلِكَ " فَقَالَ: أَبْقَيْتُ لَهُمُ اللهَ وَرَسُولَهُ، فَقُلْتُ: لَا أُسَابِقُكَ إِلَى شَيْءٍ أَبَدًا رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ فِي كِتَابِ السُّنَنِ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ وَغَيْرِهِ، عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ الْفَضْلِ بْنِ دُكَيْنٍ.
حافظ ثناء اللہ

زید بن اسلم رضی اللہ عنہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے سنا کہ ایک دن آپ ﷺ نے ہمیں حکم دیا کہ ہم صدقہ کریں اور وہ دن مجھے ایسا موافق آیا کہ میرے پاس مال تھا تو میں نے کہا: آج میں ابوبکر رضی اللہ عنہ سے سبقت لے جاؤں گا، اگر میں کسی دن میں سبقت لے جا سکتا ہوں۔ سو میں اپنا آدھا مال لے آیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اپنے اہل کے لیے باقی کیا چھوڑا؟“ میں نے کہا: جو دیا اتنا ہی اور ابوبکر رضی اللہ عنہ آئے تو سارا مال لے آئے، جو ان کے پاس تھا آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو اپنے اہل و عیال کے لیے کیا چھوڑا ہے؟“ تو انہوں نے کہا: میں نے ان کے لیے اللہ اور اس کا رسول ﷺ کو چھوڑا ہے۔ تب میں نے کہا: میں کسی چیز میں تجھ سے سبقت نہیں لے جا سکتا۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الزكاة / حدیث: 7774
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف۔ اخرجه ابوداؤد»