السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الزكاة— زکوۃ کا بیان
باب: الاختيار في صدقة التطوع باب: نفلی صدقے کے حوالے سے اختیار کا بیان۔
حدیث نمبر: 7766
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، وَأَبُو بَكْرٍ الْقَاضِي، قَالُوا: حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو عُتْبَةَ، ثنا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ، عَنْ بَحِيرِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِ يَكْرِبَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِنَّ اللهَ يُوصِيكُمْ بِأُمَّهَاتِكُمْ ثُمَّ يُوصِيكُمْ بِآبَائِكُمْ ثُمَّ يُوصِيكُمْ بِالْأَقْرَبِ فَالْأَقْرَبِ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا مقدام بن معد یکرب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا: ”اللہ تعالیٰ تمہیں تمہاری ماؤں کے حق میں وصیت کرتے ہیں، پھر تمہارے والدوں کے حق میں، پھر اس کے بعد جو زیادہ قریبی رشتہ دار ہیں، ان کے حق میں وصیت کرتے ہیں۔“ مقدام رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے یہ بھی سنا: ”جو تو نے خود کھایا یا اپنے بیٹے اور اپنی بیوی کو کھلایا یا اپنے خادم کو کھلایا، یہ سب صدقہ ہے۔“