حدیث نمبر: 7742
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو عَمْرِو بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنِ الْمُنْذِرِ بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا عَندَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَاهُ قَوْمٌ مُجْتَابِي النِّمَارِ مُتَقَلِّدِي السُّيُوفِ وَلَيْسَ عَلَيْهِمْ آزُرٌ وَلَا شَيْءَ غَيْرَهَا، عَامَّتُهُمْ مِنْ مُضَرَ، بَلْ كُلُّهُمْ مِنْ مُضَرَ، فَلَمَّا رَأَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّذِي بِهِمْ مِنَ الْجَهْدِ وَالْعُرَى وَالْجُوعِ تَغَيَّرَ وَجْهُهُ، ثُمَّ قَامَ فَدَخَلَ بَيْتَهُ ثُمَّ رَاحَ إِلَى الْمَسْجِدِ فَصَلَّى الظُّهْرَ ثُمَّ صَعِدَ مِنْبَرَهُ مِنْبَرًا صَغِيرًا، فَحَمِدَ اللهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: " أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ أَنْزَلَ فِي كِتَابِهِ: {يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ} [النساء: ١] إِلَى قَوْلِهِ: {رَقِيبًا} [النساء: ١] {اتَّقُوا اللهَ وَلْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ لِغَدٍ} [الحشر: ١٨] إِلَى قَوْلِهِ: {هُمُ الْفَائِزُونَ} [الحشر: ٢٠] تَصَدَّقُوا قَبَلَ أَنْ لَا تَصَدَّقُوا، تَصَدَّقُوا قَبَلَ أَنْ يُحَالَ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَ الصَّدَقَةِ، تَصَدَّقَ امْرُؤٌ مِنْ دِينَارِهِ، مِنْ دِرْهَمِهِ، مِنْ بُرِّهِ، مِنْ شَعِيرِهِ، وَلَا يَحْقِرَنَّ أَحَدُكُمْ شَيْئًا مِنَ الصَّدَقَةِ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ ". فَقَامَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ بِصُرَّةٍ فِي كَفِّهِ، فَنَاوَلَهَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ عَلَى مِنْبَرِهِ، فَقَبَضَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْرَفُ السُّرُورُ فِي وَجْهِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ: " مَنْ سَنَّ سُنَّةً حَسَنَةً فَعَمِلَ بِهَا كَانَ لَهُ أَجْرُهَا وَمِثْلُ أَجْرِ مَنْ عَمِلَ بِهَا لَا يَنْقُصُ مِنْ أُجُورِهِمْ شَيْءٌ، وَمَنْ سَنَّ سُنَّةً سَيِّئَةً فَعَمِلَ بِهَا كَانَ عَلَيْهِ وِزْرُهَا وَمِثْلُ وِزْرِ مَنْ عَمِلَ بِهَا لَا يَنْقُصُ مِنْ أَوْزَارِهِمْ شَيْءٌ ". فَقَامَ النَّاسُ فَتَفَرَّقُوا فَمِنْ ذِي دِينَارٍ، وَمِنْ ذِي دِرْهَمٍ، وَمِنْ ذِي وَمِنْ ذِي، قَالَ: فَاجْتَمَعَ فَقَسَمَهُ بَيْنَهُمْ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنِ ابْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ وَغَيْرِهِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا منذر بن جریر رضی اللہ عنہما اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نبی کریم ﷺ کے پاس بیٹھا ہوا تھا، آپ ﷺ کے پاس ایک قوم آئی جو چادریں اوڑھے ہوئے تھے اور تلواریں لٹکائے ہوئے تھے اور ان پر چادریں نہیں تھیں اور اس کے علاوہ کچھ بھی نہیں تھا اور وہ مضر قبیلے سے تعلق رکھتے تھے۔ جب رسول اللہ ﷺ نے ان کی تنگدستی کو اور بھوک و افلاس کو دیکھا تو آپ ﷺ کا چہرہ متغیر ہو گیا۔ پھر آپ ﷺ کھڑے ہوئے اور گھر میں داخل ہوئے، پھر مسجد کی طرف چلے اور ظہر کی نماز پڑھائی۔ پھر آپ ﷺ منبر پر بیٹھے اور منبر بھی چھوٹا تھا، اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”حمد و صلاۃ کے بعد اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے اپنی کتاب میں نازل فرمایا ہے: ﴿يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ﴾ [سورة النساء: 1] ﴿رَقِيبًا﴾ [سورة النساء: 1] تک تلاوت کیا اور ﴿اتَّقُوا اللَّهَ وَلْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَا قَدَّمَتْ لِغَدٍ﴾ [سورة الحشر: 18] کو ﴿الْفَائِزُونَ﴾ [سورة الحشر: 20] تک پڑھا“ اور فرمایا: ”اس دن سے پہلے پہلے صدقہ کرو، جب تم صدقہ نہ کر پاؤ گے۔ صدقہ و خیرات کرو اس سے پہلے کہ وہ تمہارے اور صدقے کے درمیان حائل ہو جائے“، پھر کسی آدمی نے دینار کا صدقہ کیا تو کسی نے درہم کا، کسی نے گندم کا کیا تو کسی نے جو کا صدقہ کیا اور کوئی کسی کے صدقے کو حقیر نہیں جانتا تھا اگرچہ کسی نے آدھی کھجور کا صدقہ کیا۔ ایک انصاری ایک تھیلی لے کر کھڑا ہوا جو اس کے ہاتھ میں تھی اور وہ رسول اللہ ﷺ کو پکڑا دی، آپ ﷺ منبر پر تھے اور آپ ﷺ نے اسے پکڑا ہوا تھا اور خوشی آپ ﷺ کے چہرے سے عیاں ہو رہی تھی تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”جس کسی نے اچھی روایت قائم کی اور اس پر عمل بھی کیا گیا تو اسے اس کا اجر ملے گا اور ان کے اجر کے برابر بھی جتنوں نے وہ عمل کیا ان کے اجر میں کمی کیے بغیر اور جس کسی نے بری روایت ڈالی اور اس کے مطابق عمل کیا گیا تو اس کے لیے اس کا گناہ ہو گا اور ان کا بھی جنہوں نے وہ گناہ کیا اور ان کے گناہوں میں سے کچھ کم نہیں کیا جائے گا“۔ پھر لوگ کھڑے ہو گئے اور بکھر گئے، سو جو کوئی درہم و دینار یا جس چیز کا مالک تھا انہوں نے جمع کر دیا اور رسول اللہ ﷺ نے ان میں تقسیم کر دیا۔
حدیث نمبر: 7743
أَخْبَرَنَا الشَّيْخُ أَبُو الْفَتْحِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي الْفَوَارِسِ الْحَافِظُ قَرَأْتُ عَلَيْهِ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الشَّافِعِيُّ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّائِغُ، ثنا عَفَّانُ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَ: اتَّقُوا اللهَ، وَاعْمَلُوا خَيْرًا فَإِنِّي سَمِعْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ مَعْقِلٍ قَالَ: سَمِعْتُ عَدِيَّ بْنَ حَاتِمٍ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " اتَّقُوا النَّارَ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ ". ⦗٢٩٥⦘ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ شُعْبَةَ وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی کریم ﷺ سے سنا کہ ”تم آگ سے بچ جاؤ چاہے آدھی کھجور کے ذریعے۔“
حدیث نمبر: 7744
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرِو بْنِ الْبَخْتَرِيِّ الرَّزَّازُ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شَاكِرٍ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، ثنا الْأَعْمَشُ، عَنْ خَيْثَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا سَيُكَلِّمُهُ رَبُّهُ لَيْسَ بَيْنَهُ وَبَيْنَهُ حَاجِبٌ وَلَا تُرْجُمَانٌ، فَيَنْظُرُ أَيْمَنَ مِنْهُ فَلَا يَرَى شَيْئًا إِلَّا شَيْئًا قَدَّمَهُ وَيَنْظُرُ أَشْأَمَ مِنْهُ فَلَا يَرَى إِلَّا شَيْئًا قَدَّمَهُ وَيَنْظُرُ أَمَامَهُ فَلَا يَرَى إِلَّا النَّارَ فَاتَّقُوا النَّارَ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يُوسُفَ بْنِ مُوسَى عَنْ أَبِي أُسَامَةَ وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنِ الْأَعْمَشِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم میں سے ہر ایک سے اللہ تعالیٰ کلام کریں گے اور درمیان میں کوئی پردہ نہیں ہوگا اور نہ ہی کوئی ترجمان ہوگا۔ سو وہ اپنے دائیں دیکھے گا تو اسے کوئی چیز دکھائی نہیں دے گی مگر وہی جو اس کے آگے ہوگی۔ پھر پیچھے دیکھے گا تو اس کے سوا کچھ نہیں پائے گا۔ پھر وہ اپنے سامنے دیکھے گا تو آگ کے سوا کچھ نظر نہیں آئے گا، لہٰذا تم آگ سے بچ جاؤ چاہے آدھی کھجور کے ذریعے۔“
حدیث نمبر: 7745
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَبُو مُسْلِمٍ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ، وَسُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، وَاللَّفْظُ لِأَبِي الْوَلِيدِ، قَالَا: ثنا شُعْبَةُ، عَنْ عُمَرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ خَيْثَمَةَ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ الطَّائِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرَ النَّارَ فَتَعَوَّذَ مِنْهَا وَأَشَاحَ بِوَجْهِهِ، وَذَكَرَ فَتَعَوَّذَ مِنْهَا وَأَشَاحَ بِوَجْهِهِ. قَالَ شُعْبَةُ: أَمَّا مَرَّتَيْنِ فَلَا شَكَّ ثُمَّ قَالَ: " اتَّقُوا النَّارَ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ فَإِنْ لَمْ تَجِدُوا فَبِكَلِمَةٍ طَيِّبَةٍ ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي الْوَلِيدِ وَسُلَيْمَانَ بْنِ حَرْبٍ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ شُعْبَةَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عدی بن حاتم طائی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے آگ کا تذکرہ کیا اور اس سے پناہ مانگی اور اپنے چہرے کو پھیرا، پھر آگ کا تذکرہ کیا تو اس سے پناہ مانگی اور چہرے کو پھیرا، پھر آگ کا تذکرہ کیا تو اس سے پناہ مانگی اور چہرے کو پھیر لیا، شعبہ کہتے ہیں: شاید آپ ﷺ نے دو مرتبہ کیا۔ پھر فرمایا: ”آگ سے بچ جاؤ اگرچہ کھجور کے ایک ٹکڑے کے ذریعے ہو، اگر تم یہ بھی نہیں پاتے تو اچھی بات کے ذریعے۔“
حدیث نمبر: 7746
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو مُحَمَّدِ بْنُ أَبِي حَامِدٍ الْمُقْرِئُ، وَأَبُو صَادِقِ بْنُ أَبِي الْفَوَارِسِ، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ثنا أَبُو النَّضْرِ، ثنا وَرْقَاءُ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ تَصَدَّقَ بِعَدْلِ تَمْرَةٍ مِنْ كَسْبٍ طَيِّبٍ، وَلَا يَصْعَدُ إِلَى اللهِ عَزَّ وَجَلَّ إِلَّا طَيِّبٌ، فَإِنَّ اللهَ يَقْبَلُهَا بِيَمِينِهِ فَيُرَبِّيهَا لِصَاحِبِهَا، كَمَا يُرَبِّي أَحَدُكُمْ فَلُوَّهُ حتَّى تَكُونَ مِثْلَ أُحُدٍ ". أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، فَقَالَ: وَقَالَ وَرْقَاءُ عَنِ ابْنِ دِينَارٍ فَذَكَرَهُ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِيثِ الْمَقْبُرِيِّ عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ وَأَخْرَجَاهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے کھجور کے برابر پاکیزہ کمائی سے صدقہ کیا، اور اللہ کی طرف صرف پاکیزہ چیز ہی چڑھتی ہے، تو یقیناً اللہ تعالیٰ اسے اپنے دائیں ہاتھ سے قبول فرماتا ہے اور اس کے صاحب کے لیے اسے پروان چڑھاتا ہے، جس طرح تم میں سے کوئی اپنے بچھڑے کو پروان چڑھاتا ہے، حتیٰ کہ وہ احد پہاڑ کے برابر ہو جاتا ہے۔“
حدیث نمبر: 7747
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ ⦗٢٩٦⦘ عَبْدِ السَّلَامِ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، ثنا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحِ بْنُ أَبِي طَاهِرٍ، أنبأ جَدِّي يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا اللَّيْثُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ: " يَا نِسَاءَ الْمُسْلِمَاتِ لَا تَحْقِرَنَّ جَارَةٌ لِجَارَتِهَا، وَلَوْ فِرْسِنَ شَاةٍ ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى، وَقُتَيْبَةَ وَرَوَاهُ الْبُخَارِيُّ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يُوسُفَ عَنِ اللَّيْثِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ فرمایا کرتے تھے: ”اے مسلمان عورتو! کوئی پڑوسن دوسری کو حقیر نہ سمجھے، اگرچہ بکری کا کھر ہی کیوں نہ ہو۔“
حدیث نمبر: 7748
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحِ ابْنُ بِنْتِ يَحْيَى بْنِ مَنْصُورٍ الْقَاضِي، أنبأ جَدِّي، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، أنبأ إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، أنبأ أَبُو دَاوُدَ، ثنا شُعْبَةُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا وَائِلٍ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ، قَالَ: " كُنَّا نَتَحَامَلُ فَيَتَصَدَّقُ الرَّجُلُ بِالصَّدَقَةِ الْعَظِيمَةِ فَيُقَالُ: هَذَا مُرَائِي، وَيَتَصَدَّقُ الرَّجُلُ بِنِصْفِ صَاعٍ، فَيُقَالُ: إِنَّ اللهَ لَغَنِيٌّ عَنْ هَذَا فَنَزَلَتْ: {الَّذِينَ يَلْمِزُونَ الْمُطَّوِّعِينَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ فِي الصَّدَقَاتِ} [التوبة: ٧٩] إِلَى {عَذَابٌ أَلِيمٌ} [التوبة: ٧٩] لَفْظُ حَدِيثِ أَبِي صَالِحٍ وَفِي رِوَايَةِ أَبِي بَكْرٍ قَالَ: عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْبَدْرِيِّ، قَالَ: كُنَّا نَتَحَامَلُ فَيَجِيءُ الرَّجُلُ بِالصَّدَقَةِ الْعَظِيمَةِ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ مَنْصُورٍ وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ وَجْهَيْنِ آخَرَيْنِ عَنْ شُعْبَةَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم بوجھ اٹھایا کرتے تھے، پھر ہم میں سے کوئی بڑا صدقہ کیا کرتا تو اسے کہا جاتا کہ یہ دکھاوے کی غرض سے کرتا ہے، اور اگر کوئی آدھا صاع صدقہ کرتا تو اسے کہا جاتا کہ اللہ تعالیٰ تیرے صدقے سے بے نیاز ہے، تب یہ آیت مبارکہ نازل ہوئی: ﴿الَّذِينَ يَلْمِزُونَ الْمُطَّوِّعِينَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ فِي الصَّدَقَاتِ﴾ سے ﴿عَذَابٌ أَلِيمٌ﴾ [سورة التوبة: 79] تک۔
حدیث نمبر: 7749
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبُوشَنْجِيُّ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ بُجَيْدٍ الْأَنْصَارِيِّ، ثُمَّ الْحَارِثِيِّ عَنْ جَدَّتِهِ حوَّاءَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " رُدُّوا السَّائِلَ وَلَوْ بِظِلْفٍ مُحْرَقٍ ".
حافظ ثناء اللہ
محمد بن بجید انصاری رحمہ اللہ اپنی دادی حواء رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”سائل کو عطا کرو اگرچہ جلی ہوئی کھری ہو۔“
حدیث نمبر: 7750
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا ابْنُ مِلْحَانَ، ثنا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ثنا اللَّيْثُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَحَدِ بَنِي حَارِثَةَ، حدَّثَتْهُ جَدَّتُهُ وَهِيَ أُمُّ بُجَيْدٍ، وَكَانَتْ مِمَنْ بَايَعَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ، ⦗٢٩٧⦘ وَاللهِ إِنَّ الْمِسْكِينَ لَيَقُومُ عَلَى بَابِي فَمَا أَجِدُ لَهُ شَيْئًا أُعْطِيهِ إِيَّاهُ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنْ لَمْ تَجِدِي شَيْئًا تُعْطِيهِ إِيَّاهُ إِلَّا ظِلْفًا مُحْرَقًا فَادْفَعِيهِ إِلَيْهِ "، وَقَالَ سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنِ اللَّيْثِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ بُجَيْدٍ.
حافظ ثناء اللہ
عبدالرحمن بن حارثہ اپنی دادی ام بجید رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں اور یہ ان میں سے تھیں جنہوں نے رسول اللہ ﷺ کی بیعت کی، فرماتی ہیں: اے اللہ کے رسول! اللہ کی قسم! کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ ایک مسکین میرے دروازے پر کھڑا ہوتا ہے مگر میں اسے دینے کے لیے کچھ بھی نہیں پاتی، تو اسے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اگر تو کچھ بھی نہیں پاتی تو اسے جلی ہوئی کھری دے کر واپس لوٹا دے۔“
حدیث نمبر: 7751
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ حَلِيمٍ الْمَرْوَزِيُّ، أنبأ أَبُو الْمُوَجِّهِ، أنبأ عَبْدَانُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ، ثنا حَرْمَلَةُ بْنُ عِمْرَانَ، أَنَّهُ سَمِعَ يَزِيدَ بْنَ أَبِي حَبِيبٍ، يُحَدِّثُ أَنَّ أَبَا الْخَيْرِ حدَّثَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " كُلُّ امْرِئٍ فِي ظِلِّ صَدَقَتِهِ حَتَّى يُفْصَلَ بَيْنَ النَّاسِ أَوْ قَالَ حَتَّى يُحْكَمَ بَيْنَ النَّاسِ ". قَالَ يَزِيدُ: وَكَانَ أَبُو الْخَيْرِ لَا يُخْطِئُهُ يَوْمٌ لَا يَتَصَدَّقُ فِيهِ بِشَيْءٍ وَلَوْ كَعْكَةً وَلَوْ بَصَلَةً.
حافظ ثناء اللہ
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا کہ ”ہر شخص اپنے صدقے کے سائے میں ہو گا جب تک لوگوں میں فیصلہ نہ کر دیا جائے گا۔“
یزید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ کوئی دن بھی ایسا نہیں ہوتا تھا جس میں ابو الخیر رحمہ اللہ کا صدقہ رہ جاتا ہو اگرچہ کیک یا پیاز ہی دینا پڑتا۔
یزید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ کوئی دن بھی ایسا نہیں ہوتا تھا جس میں ابو الخیر رحمہ اللہ کا صدقہ رہ جاتا ہو اگرچہ کیک یا پیاز ہی دینا پڑتا۔
حدیث نمبر: 7752
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، ثنا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامِ بْنِ خُوَيْلِدٍ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " الْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى، وَلْيَبْدَأْ أَحَدُكُمْ بِمَنْ يعُولُ، وَخَيْرُ الصَّدَقَةِ مَا كَانَ عَنْ ظَهْرِ غِنًى، وَمَنْ يسْتَعْفِفْ يُعِفَّهُ اللهُ وَمَنِ اسْتَغْنَى أَغْنَاهُ اللهُ "..
حافظ ثناء اللہ
سیدنا حکیم بن حزام بن خویلد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا: ”اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے اور چاہیے کہ تم میں سے ایک اس کی ابتدا گھر والوں سے کرے اور بہتر صدقہ وہ ہے جس کے بعد بھی انسان غنی ہو اور جو کوئی سوال سے بچنا چاہتا ہے اللہ اسے بچا لیتا ہے اور جو کوئی لوگوں سے بے پروا ہونا چاہتا ہے اللہ اسے بے پروا کر دیتا ہے۔“
حدیث نمبر: 7753
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنِي ابْنُ يَاسِينَ، حدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سُفْيَانَ بْنِ أَبِي الزَّرْدِ الْأَيْلِيُّ، ثنا حَبَّانُ، ثنا وُهَيْبٌ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَذَكَرَهُ بِنَحْوِهِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: وَمَنْ يسْتَغْنِ يُغْنِهِ اللهُ وَلَمْ يَذْكُرْ كَلِمَةَ الِاسْتِعْفَافِ..
حافظ ثناء اللہ
سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ سے ایسی ہی حدیث نقل فرماتے ہیں سوائے اس کے کہ آپ ﷺ نے یہ بھی فرمایا: «وَمَنْ يَسْتَغْنِ يُغْنِهِ اللَّهُ» ”جو کوئی بے پروا ہونا چاہتا ہے اللہ اسے مستغنی کر دیتا ہے۔“
حدیث نمبر: 7754
قَالَ: وَحَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، ثنا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، بِمِثْلِ حَدِيثِ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ هَذَا. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُوسَى بْنِ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ وُهَيْبٍ، بِالْإِسْنَادَيْنِ جَمِيعًا وَذَكَرَ كَلِمَةَ الِاسْتِعْفَافِ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِيثِ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ عَنْ حَكِيمٍ، وَمِنْ حَدِيثِ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، يَزِيدُ وَيَنْقُصُ.
حافظ ثناء اللہ
موسیٰ بن اسماعیل وُہیب سے دونوں سندوں کے ساتھ ایک ہی حدیث نقل فرماتے ہیں اور اس میں وہ کلمہ استعفاف بھی بیان کرتے ہیں۔
حدیث نمبر: 7755
أَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحِ بْنُ بِنْتِ يَحْيَى بْنِ مَنْصُورٍ الْقَاضِي، أنبأ جَدِّي، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ الثَّقَفِيُّ، ثنا اللَّيْثُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ أَنَّهُ قَالَ: ⦗٢٩٨⦘ أَعْتَقَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي عُذْرَةٍ عَبْدًا لَهُ عَنْ دُبُرٍ، فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " أَلَكَ مَالٌ غَيْرُهُ؟ " فَقَالَ: لَا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ يَشْتَرِيهِ مِنِّي " فَاشْتَرَاهُ نُعَيْمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْعَدَوِيُّ بِثَمَانِمِائَةِ دِرْهَمٍ، فَجَاءَ بِهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَفَعَهَا إِلَيْهِ ثُمَّ قَالَ: " ابْدَأْ بِنَفْسِكَ فَتَصَدَّقْ عَلَيْهَا فَإِنْ فَضَلَ شَيْءٌ فَلِأَهْلِكَ فَإِنْ فَضَلَ عَنْ أَهْلِكَ فَلِذِي قَرَابَتِكَ فَإِنْ فَضَلَ عَنْ ذِي قَرَابَتِكَ فَهَكَذَا وَهَكَذَا يَقُولُ بَيْنَ يَدَيْكَ وَعَنْ يَمِينِكَ وَعَنْ شِمَالِكَ ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ قُتَيْبَةَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ بنو عذرہ میں سے ایک شخص نے مدبر غلام آزاد کیا تو یہ بات رسول اللہ ﷺ تک پہنچی، آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا اس کے علاوہ بھی تیرا مال ہے؟“ اس نے کہا: نہیں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”مجھ سے اس غلام کو کون خریدے گا؟“ تو سیدنا نعیم بن عبداللہ عدوی رضی اللہ عنہ نے آٹھ سو درہم میں خرید لیا تو آپ ﷺ نے وہ لا کر اسے دے دیے۔ پھر فرمایا: ”اپنی ذات پر خرچ کرنے سے (صدقہ) شروع کرو اور جو اس سے بچ رہے وہ تیرے اہل کے لیے ہے، اگر تیرے اہل سے بچ جائے تو تیرے قرابت داروں کے لیے ہے۔ اگر قرابت داروں سے بچ رہے تو پھر ایسے ایسے ہے“ یعنی پھر اپنے سامنے والوں، دائیں اور بائیں والوں کو دے۔
حدیث نمبر: 7756
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ثنا آدَمُ، ثنا شُعْبَةُ، أَخْبَرَنِي عَدِيُّ بْنُ ثَابِتٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ يَزِيدَ الْأَنْصَارِيَّ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ، فَقُلْتُ: أَعَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ: عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ الْمُسْلِمَ إِذَا أَنْفَقَ نَفَقَةً عَلَى أَهْلِهِ وَهُوَ يَحْتَسِبُهَا كَانَتْ لَهُ صَدَقَةٌ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ آدَمَ بْنِ أَبِي إِيَاسٍ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ أوْجُهٍ عَنْ شُعْبَةَ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”یقیناً مسلمان جب اپنے اہل و عیال پر کچھ خرچ کرتا ہے اور اس کے اجر کی امید اللہ سے رکھتا ہے تو وہ بھی اس کے لیے صدقہ ہے۔“
حدیث نمبر: 7757
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ إِمْلَاءً، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، وَعَارِمٌ، وَأَبُو الرَّبِيعِ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، وَمُسَدَّدٌ، وَمُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، قَالُوا: ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، ثنا أَيُّوبُ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ، عَنْ ثَوْبَانَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَفْضَلُ دِينَارٍ يُنْفِقُهُ الرَّجُلُ دِينَارٌ يُنْفِقُهُ عَلَى عِيَالِهِ، دِينَارٌ يُنْفِقُهُ الرَّجُلُ عَلَى دَابَّتِهِ فِي سَبِيلِ اللهِ، دِينَارٌ يُنْفِقُهُ الرَّجُلُ عَلَى أَصْحَابِهِ فِي سَبِيلِ اللهِ " قَالَ أَبُو قِلَابَةَ: وَبَدَأَ بِالْعِيَالِ، فَأِيُّ رَجُلٍ أَعْظَمُ أَجْرًا مِنْ رَجُلٍ يُنْفِقُ عَلَى عِيَالٍ صِغَارٍ يَقُوتُهُمُ اللهُ وَيَنْفَعُهُمْ بِهِ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي الرَّبِيعِ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ان دیناروں میں سے افضل دینار وہ ہے جسے وہ اپنے عیال پر خرچ کرتا ہے، پھر وہ جسے اللہ کی راہ میں اپنے جانور پر خرچ کرتا ہے، پھر وہ دینار جسے اللہ کی راہ میں اپنے ساتھیوں پر خرچ کرتا ہے۔“ ابو قلابہ رحمہ اللہ نے کہا: پھر اپنے عیال سے شروع کر۔ وہ کون سا شخص ہے جو اجر میں اس سے زیادہ ہو جو اپنی چھوٹی اولاد پر خرچ کرتا ہے جو ان کے رزق کا باعث ہوتا ہے اور انہیں فائدہ بھی پہنچاتا ہے۔
حدیث نمبر: 7758
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حُمَيْدٍ، حدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرِو بْنِ أُمَيَّةَ الضَّمْرِيُّ، ح وَأَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا عَبَّاسٌ الْإِسْفَاطِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ، ثنا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ، ثنا ابْنُ أَبِي حُمَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ الضَّمْرِيُّ، عَنْ أَبِيهِ: أَنَّ عُمَرَ مَرَّ عَلَيْهِ وَهُوَ يُسَاوِمُ بِمَرْطٍ، فَقَالَ: مَا هَذَا؟ قَالَ: أُرِيدُ أَنْ أَشْتَرِيَهُ وَأَتَصَدَّقَ بِهِ، فَاشْتَرَاهُ فَدَفَعَهُ إِلَى أَهْلِهِ وَقَالَ: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَا أَعْطَيْتُمُوهُنَّ فَهُوَ صَدَقَةٌ " فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: مَنْ يَشْهَدُ مَعَكَ؟ فَأَتَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا فَقَامَ مِنْ وَرَاءِ الْبَابِ فَقَالَتْ: مَنْ هَذَا؟ قَالَ عَمْرٌو، قَالَتْ: مَا جَاءَ بِكَ؟ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَا أَعْطَيْتُمُوهُنَّ فَهُوَ صَدَقَةٌ " قَالَتْ: نَعَمْ. ⦗٢٩٩⦘ لَفْظُ حَدِيثِ أَنَسِ بْنِ عِيَاضٍ، وَحَدِيثُ أَبِي دَاوُدَ أَتَمُّ، ابْنُ أَبِي حُمَيْدٍ حمَّادُ بْنُ أَبِي حُمَيْدٍ وَيُقَالُ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حُمَيْدٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن امیہ ضمری رضی اللہ عنہما اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ان کے پاس سے گزرے تو وہ رسیاں بٹ رہے تھے۔ انہوں نے کہا: ”یہ کیا ہے؟“ میں نے کہا: میں چاہتا ہوں کہ اسے بیچ کر صدقہ کروں، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے وہ خرید لیں اور وہ انہوں نے اہل کو دے دیں اور کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو تم ان کو دو گے وہ بھی صدقہ ہے“، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”تیرا اس بات پر گواہ کون ہے؟“ وہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے اور دروازے کے پیچھے کھڑے ہو گئے تو سیدہ رضی اللہ عنہا کہنے لگیں: ”کون ہے؟“ انہوں نے کہا: ”عمرو ہے۔“ کہنے لگیں: ”تجھے کون سی چیز لائی ہے؟“ تو وہ کہنے لگے: میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو تم ان کو دو وہ صدقہ ہے“، تو وہ کہنے لگیں: ”ہاں! آپ ﷺ نے یوں ہی فرمایا ہے۔“
انس بن عیاض کی حدیث سے ابو داؤد کی حدیث زیادہ مفصل و صحیح ہے۔
انس بن عیاض کی حدیث سے ابو داؤد کی حدیث زیادہ مفصل و صحیح ہے۔
حدیث نمبر: 7759
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا ابْنُ نُمَيْرٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ زَيْنَبَ امْرَأَةِ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَتْ: أَمَرَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالصَّدَقَةِ، فَقَالَ: " تَصَدَّقْنَ يَا مَعَاشِرَ النِّسَاءِ وَلَوْ مِنْ حُلِيِّكُنَّ " قَالَتْ: وَكُنْتُ أَعُولُ عَبْدَ اللهِ بْنَ مَسْعُودٍ، وَيَتَامَى فِي حَجْرِهِ، وَكَانَ عَبْدُ اللهِ خَفِيفَ ذَاتِ الْيَدِ، فَقُلْتُ لِعَبْدِ اللهِ: ائْتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَلْهُ، أَيَجْزِئُ ذَلِكَ عَنِّي أَوْ أُوَجِّهُهُ عَنْكُمْ، تَعْنِي الصَّدَقَةَ، فَقَالَ: لَا، بَلِ ائْتِيهِ أَنْتِ فَسَلِيهِ، قَالَتْ: فَأَتَيْتُهُ، فَجَلَسْتُ فَوَجَدْتُ عِنْدَ الْبَابِ امْرَأَةً مِنَ الْأَنْصَارِ حَاجَتُهَا حَاجَتِي، وَكَانَتْ قَدْ أُلْقِيَتْ عَلَيْهِ الْمَهَابَةُ، قَالَتْ: فَخَرَجَ عَلَيْنَا بِلَالٌ فَقُلْنَا: سَلْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا تُخْبِرْهُ مَنْ نَحْنُ، فَسَأَلَهُ فَقَالَ: امْرَأَتَانِ تَعُولَانِ أَزْوَاجَهُمَا وَيَتَامَى فِي حُجُورِهِمَا، هَلْ يَجْزِي ذَلِكَ عَنْهُمَا مِنَ الصَّدَقَةِ؟ فَقَالَ لَهُ " مَنْ هُمَا " قَالَ: زَيْنَبُ وَامْرَأَةٌ مِنَ الْأَنْصَارِ، قَالَ: " أِيُّ الزَّيَانِبِ؟ قَالَ: امْرَأَةُ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ، وَامْرَأَةٌ مِنَ الْأَنْصَارِ، فَقَالَ: " نَعَمْ، لَهُمَا أَجْرَانِ، أَجْرُ الْقَرَابَةِ، وَأَجْرُ الصَّدَقَةِ " أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ أَبِي الْأَحْوَصِ عَنِ الْأَعْمَشِ بِطُولِهِ، وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ، وَمُسْلِمٌ مِنْ حَدِيثِ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ عَنِ الْأَعْمَشِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی بیوی سیدہ زینب رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں صدقہ کرنے کا حکم دیا اور فرمایا: ”اے عورتوں کی جماعت! صدقہ کیا کرو اگرچہ اپنے زیور سے ہی کرنا پڑے۔“ میں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے زیادہ مال دار تھی اور کچھ یتیم ان کی گود میں تھے اور عبداللہ تنگ دست تھے تو میں نے عبداللہ سے کہا: ”تم پیارے پیغمبر ﷺ کے پاس جاؤ اور پوچھو کہ کیا میرا صدقہ آپ کے لیے درست ہے؟ یا انہوں نے کہا: میں تم پر صدقہ کروں؟“ تو عبداللہ نے کہا: ”نہیں بلکہ خود جا کر پوچھو۔“ وہ کہتی ہیں: میں آپ ﷺ کی طرف آئی اور آ کر بیٹھ گئی، میں نے دروازے کے پاس ایک انصاری عورت کو دیکھا۔ اسے بھی وہی ضرورت تھی جو میری ضرورت تھی کہ کچھ کمزور اس کے پاس تھے تو سیدنا بلال رضی اللہ عنہ ہماری طرف نکلے، ہم نے کہا: ”تم جا کر آپ ﷺ سے پوچھو، مگر ہمارے بارے میں نہ بتانا۔“ انہوں نے جا کر پوچھا: ”دو عورتیں ہیں جو اپنے خاوندوں سے زیادہ مال دار ہیں اور ان کی گود میں یتیم پرورش پا رہے ہیں، کیا ان کا صدقہ ان پر کفایت کر جائے گا؟“ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ ہیں کون؟“ تو سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے کہا: ”زینب ہے اور ایک انصاری عورت۔“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کون سی زینبیں؟“ انہوں نے کہا: ”عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی بیوی اور ایک انصاری عورت۔“ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں! ان کے لیے دوگنا اجر ہے، ایک قرابت داری کا اور ایک صدقہ کرنے کا۔“
حدیث نمبر: 7760
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالُوا: أنبأ أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنْ رَيْطَةَ بِنْتِ عَبْدِ اللهِ امْرَأَةِ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ وَأُمِّ وَلَدِهِ، وَكَانَتِ امْرَأَةً صَنَّاعَةً، وَلَيْسَ لِعَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ مَالٌ، وَكَانَتْ تُنْفِقُ عَلَيْهِ وَعَلَى وَلَدِهِ مِنْ ثَمَنِ صَنْعَتِهَا، فَقَالَتْ: وَاللهِ لَقَدْ شَغَلْتَنِي أَنْتَ وَوَلَدُكَ عَنِ الصَّدَقَةِ، فَمَا أَسْتَطِيعُ أَنْ أَتَصَدَّقَ مَعَكُمْ، فَقَالَ: مَا أُحِبُّ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكِ فِي ذَلِكَ أَجْرٌ أَنْ تَفْعَلِي، فَسَأَلَتْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هِيَ وَهُوَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّنِي امْرَأَةٌ ذَاتُ صَنْعَةٍ أَبِيعُ مِنْهَا، وَلَيْسَ لِي وَلَا لِوَلَدِي وَلَا لِزَوْجِي شَيْءٌ، فَشَغَلُونِي فَلَا ⦗٣٠٠⦘ أَتَصَدَّقُ، فَهَلْ لِي فِي ذَلِكَ أَجْرٌ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَكِ فِي ذَلِكَ أَجْرٌ مَا أَنْفَقَتِ عَلَيْهِمْ فَأَنْفَقِي عَلَيْهِمْ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی بیوی فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا: ”میں کاریگر عورت ہوں، میں اس میں سے فروخت کرتی ہوں، لیکن میرے لیے، میرے بچے اور خاوند کے لیے کچھ نہیں۔ انہوں نے مجھے مصروف کر رکھا ہے، اس لیے میں خرچ نہیں کر سکتی۔ کیا اس میں میرے لیے کوئی اجر ہے؟“ تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”تیرے لیے اس میں اجر ہے جو بھی تو ان پر خرچ کرے گی، سو تو ان پر خرچ کرتی رہ۔“
حدیث نمبر: 7761
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّهَا قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ بَنِي أَبِي سَلَمَةَ فِي حَجْرِي، وَلَيْسَ لَهُمْ شَيْءٌ إِلَّا مَا أَنْفَقْتُ عَلَيْهِمْ، وَلَسْتُ بِتَارِكَتِهِمْ كَذَا وَكَذَا، فَلِي أَجْرٌ إِنْ أَنْفَقْتُ عَلَيْهِمْ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَنْفِقِي عَلَيْهِمْ، فَإِنَّ لَكِ أَجْرَ مَا أَنْفَقْتِ عَلَيْهِمْ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ هِشَامٍ.
حافظ ثناء اللہ
ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! ابو سلمہ رضی اللہ عنہ کے بیٹے میری پرورش میں ہیں اور ان کے لیے کچھ بھی نہیں مگر جو میں ان پر خرچ کرتی ہوں اور میں انہیں اس اس وجہ سے چھوڑ بھی نہیں سکتی۔ اگر میں ان پر خرچ کروں تو کیا مجھے اس کا کوئی اجر ہے؟ تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جو تو ان پر خرچ کرے گی یقیناً تجھے اجر ملے گا۔“
حدیث نمبر: 7762
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ مُهَاجِرٍ، ثنا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنْ مَيْمُونَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ، أَنَّهَا أَعْتَقَتْ وَلِيدَةً فِي زَمَنِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " لَوْ أَعْطَيْتِهَا أَخْوَالَكِ كَانَ أَعْظَمَ لِأَجْرِكِ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ هَارُونَ بْنِ سَعِيدٍ، وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ عُمَرٍو.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا بنت حارث فرماتی ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے دور میں ایک باندی آزاد کی، اس کا تذکرہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے پاس کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر تو اپنے ماموں کو دے دیتی تو تجھے زیادہ اجر و ثواب ملتا۔“
حدیث نمبر: 7763
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَبُو مُسْلِمٍ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، ثنا الْأَنْصَارِيُّ، ثنا بَهْزُ بْنُ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، مَنْ أَبَرُّ؟ قَالَ: " أُمُّكَ " قُلْتُ: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ: " ثُمَّ أُمُّكَ " قُلْتُ: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ: " ثُمَّ أُمُّكَ؟ قُلْتُ: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ: " ثُمَّ أَبَاكَ، ثُمَّ الْأَقْرَبُ فَالْأَقْرَبُ ".
حافظ ثناء اللہ
بہز بن حکیم رحمہ اللہ اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا (رضی اللہ عنہ) سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کون نیکی کا زیادہ مستحق ہے؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”تیری ماں۔“ میں نے کہا: پھر کون؟ فرمایا: ”تیری ماں!“ میں نے کہا: پھر کون؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تیری ماں!“ میں نے کہا: پھر کون؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”پھر تیرا والد، پھر اس کے بعد قریبی رشتہ دار، پھر اس کے بعد رشتہ دار۔“
حدیث نمبر: 7764
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ، أنبأ أَحْمَدُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَرَجِ، ثنا السَّهْمِيُّ يَعْنِي عَبْدَ اللهِ بْنَ بَكْرٍ، ثنا بَهْزُ بْنُ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لَا يَأْتِي رَجُلٌ مَوْلَاهُ فَيَسْأَلَهُ مِنْ فَضْلٍ هُوَ عِنْدَهُ فَيَمْنَعَهُ إِيَّاهُ إِلَّا دُعِيَ إِلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ شُجَاعًا أَقْرَعَ يَتَلَمَّظُ فَضْلَهُ الَّذِي مَنْعَ ".
حافظ ثناء اللہ
بہز بن حکیم اپنے والد سے، وہ اپنے دادا رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا کہ ”کسی آدمی کے پاس اس کا غلام آئے، وہ اس سے کوئی چیز مانگے جو اس کے پاس ہے، پھر وہ اس سے روک لے تو وہ قیامت کے دن اس کی طرف بڑے اژدھا کی صورت میں بلایا جائے گا اور وہ اس سے چمٹ جائے گا جس سے اس نے منع کیا تھا۔“
حدیث نمبر: 7765
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ ⦗٣٠١⦘ عِيسَى، ثنا الْحَارِثُ بْنُ مُرَّةَ، ثنا كُلَيْبُ بْنُ مَنْفَعَةَ، عَنْ جَدِّهِ: أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، مَنْ أَبَرُّ؟ قَالَ: " أُمَّكَ وَأَبَاكَ، وَأُخْتَكَ وَأَخَاكَ، وَمَوْلَاكَ الَّذِي يَلِي ذَلِكَ، حَقًّا وَاجِبًا وَرَحِمًا مَوْصُولَةً ".
حافظ ثناء اللہ
کلیب بن منفعہ اپنے دادا رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ نبی کریم ﷺ کے پاس آئے اور عرض کی: ”اے اللہ کے رسول! نیکی کا سب سے زیادہ حق دار کون ہے؟“ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”تیری ماں، والد، بہن، بھائی اور تیرا وہ غلام جس کا حق تیرے ساتھ ملا ہوا ہے اور جس کے ساتھ صلہ رحمی واجب ہے۔“
حدیث نمبر: 7766
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، وَأَبُو بَكْرٍ الْقَاضِي، قَالُوا: حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو عُتْبَةَ، ثنا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ، عَنْ بَحِيرِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِ يَكْرِبَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِنَّ اللهَ يُوصِيكُمْ بِأُمَّهَاتِكُمْ ثُمَّ يُوصِيكُمْ بِآبَائِكُمْ ثُمَّ يُوصِيكُمْ بِالْأَقْرَبِ فَالْأَقْرَبِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا مقدام بن معد یکرب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا: ”اللہ تعالیٰ تمہیں تمہاری ماؤں کے حق میں وصیت کرتے ہیں، پھر تمہارے والدوں کے حق میں، پھر اس کے بعد جو زیادہ قریبی رشتہ دار ہیں، ان کے حق میں وصیت کرتے ہیں۔“ مقدام رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے یہ بھی سنا: ”جو تو نے خود کھایا یا اپنے بیٹے اور اپنی بیوی کو کھلایا یا اپنے خادم کو کھلایا، یہ سب صدقہ ہے۔“
حدیث نمبر: 7767
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ الضَّبِّيُّ، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُرْفُطَةَ، عَنْ خِدَاشٍ أَبِي سَلَامَةَ، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أُوْصِي امْرَأً بِأُمِّهِ ثَلَاثًا، أُوصِي امْرَأً بِأَبِيهِ مَرَّتَيْنِ، أُوصِي امْرَأً بِمَوْلَاهُ الَّذِي يَلِيهِ وَإِنْ كَانَتْ عَلَيْهِ أَذَاةٌ تُؤْذِيهِ " قَالَ الشَّيْخُ: اخْتَلَفَ أَصْحَابُ مَنْصُورٍ عَلَى مَنْصُورٍ فِي اسْمِ مَنْ رَوَاهُ عَنْهُ فَقِيلَ عَنْهُ هَكَذَا، وَقِيلَ عَنْهُ عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَلِيٍّ، وَقِيلَ غَيْرُ ذَلِكَ وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
خداش ابو سلامہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”میں آدمی کو ماں کے بارے میں تین مرتبہ وصیت کرتا ہوں اور والد کے بارے میں دو مرتبہ وصیت کرتا ہوں اور اس کے غلام کے بارے میں وصیت کرتا ہوں اگرچہ وہ اس کے لیے تکلیف کا باعث ہے جو اسے تکلیف دیتا ہے۔“
شیخ نے کہا کہ اصحاب منصور نے منصور سے راویوں کے ناموں میں اختلاف کیا۔
شیخ نے کہا کہ اصحاب منصور نے منصور سے راویوں کے ناموں میں اختلاف کیا۔