السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الزكاة— زکوۃ کا بیان
باب: الاختيار في صدقة التطوع باب: نفلی صدقے کے حوالے سے اختیار کا بیان۔
حدیث نمبر: 7765
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ ⦗٣٠١⦘ عِيسَى، ثنا الْحَارِثُ بْنُ مُرَّةَ، ثنا كُلَيْبُ بْنُ مَنْفَعَةَ، عَنْ جَدِّهِ: أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، مَنْ أَبَرُّ؟ قَالَ: " أُمَّكَ وَأَبَاكَ، وَأُخْتَكَ وَأَخَاكَ، وَمَوْلَاكَ الَّذِي يَلِي ذَلِكَ، حَقًّا وَاجِبًا وَرَحِمًا مَوْصُولَةً ".حافظ ثناء اللہ
کلیب بن منفعہ اپنے دادا رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ نبی کریم ﷺ کے پاس آئے اور عرض کی: ”اے اللہ کے رسول! نیکی کا سب سے زیادہ حق دار کون ہے؟“ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”تیری ماں، والد، بہن، بھائی اور تیرا وہ غلام جس کا حق تیرے ساتھ ملا ہوا ہے اور جس کے ساتھ صلہ رحمی واجب ہے۔“