السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الزكاة— زکوۃ کا بیان
باب: الاختيار في صدقة التطوع باب: نفلی صدقے کے حوالے سے اختیار کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو عَمْرِو بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنِ الْمُنْذِرِ بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا عَندَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَاهُ قَوْمٌ مُجْتَابِي النِّمَارِ مُتَقَلِّدِي السُّيُوفِ وَلَيْسَ عَلَيْهِمْ آزُرٌ وَلَا شَيْءَ غَيْرَهَا، عَامَّتُهُمْ مِنْ مُضَرَ، بَلْ كُلُّهُمْ مِنْ مُضَرَ، فَلَمَّا رَأَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّذِي بِهِمْ مِنَ الْجَهْدِ وَالْعُرَى وَالْجُوعِ تَغَيَّرَ وَجْهُهُ، ثُمَّ قَامَ فَدَخَلَ بَيْتَهُ ثُمَّ رَاحَ إِلَى الْمَسْجِدِ فَصَلَّى الظُّهْرَ ثُمَّ صَعِدَ مِنْبَرَهُ مِنْبَرًا صَغِيرًا، فَحَمِدَ اللهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: " أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ أَنْزَلَ فِي كِتَابِهِ: {يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ} [النساء: ١] إِلَى قَوْلِهِ: {رَقِيبًا} [النساء: ١] {اتَّقُوا اللهَ وَلْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ لِغَدٍ} [الحشر: ١٨] إِلَى قَوْلِهِ: {هُمُ الْفَائِزُونَ} [الحشر: ٢٠] تَصَدَّقُوا قَبَلَ أَنْ لَا تَصَدَّقُوا، تَصَدَّقُوا قَبَلَ أَنْ يُحَالَ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَ الصَّدَقَةِ، تَصَدَّقَ امْرُؤٌ مِنْ دِينَارِهِ، مِنْ دِرْهَمِهِ، مِنْ بُرِّهِ، مِنْ شَعِيرِهِ، وَلَا يَحْقِرَنَّ أَحَدُكُمْ شَيْئًا مِنَ الصَّدَقَةِ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ ". فَقَامَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ بِصُرَّةٍ فِي كَفِّهِ، فَنَاوَلَهَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ عَلَى مِنْبَرِهِ، فَقَبَضَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْرَفُ السُّرُورُ فِي وَجْهِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ: " مَنْ سَنَّ سُنَّةً حَسَنَةً فَعَمِلَ بِهَا كَانَ لَهُ أَجْرُهَا وَمِثْلُ أَجْرِ مَنْ عَمِلَ بِهَا لَا يَنْقُصُ مِنْ أُجُورِهِمْ شَيْءٌ، وَمَنْ سَنَّ سُنَّةً سَيِّئَةً فَعَمِلَ بِهَا كَانَ عَلَيْهِ وِزْرُهَا وَمِثْلُ وِزْرِ مَنْ عَمِلَ بِهَا لَا يَنْقُصُ مِنْ أَوْزَارِهِمْ شَيْءٌ ". فَقَامَ النَّاسُ فَتَفَرَّقُوا فَمِنْ ذِي دِينَارٍ، وَمِنْ ذِي دِرْهَمٍ، وَمِنْ ذِي وَمِنْ ذِي، قَالَ: فَاجْتَمَعَ فَقَسَمَهُ بَيْنَهُمْ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنِ ابْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ وَغَيْرِهِ.سیدنا منذر بن جریر رضی اللہ عنہما اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نبی کریم ﷺ کے پاس بیٹھا ہوا تھا، آپ ﷺ کے پاس ایک قوم آئی جو چادریں اوڑھے ہوئے تھے اور تلواریں لٹکائے ہوئے تھے اور ان پر چادریں نہیں تھیں اور اس کے علاوہ کچھ بھی نہیں تھا اور وہ مضر قبیلے سے تعلق رکھتے تھے۔ جب رسول اللہ ﷺ نے ان کی تنگدستی کو اور بھوک و افلاس کو دیکھا تو آپ ﷺ کا چہرہ متغیر ہو گیا۔ پھر آپ ﷺ کھڑے ہوئے اور گھر میں داخل ہوئے، پھر مسجد کی طرف چلے اور ظہر کی نماز پڑھائی۔ پھر آپ ﷺ منبر پر بیٹھے اور منبر بھی چھوٹا تھا، اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”حمد و صلاۃ کے بعد اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے اپنی کتاب میں نازل فرمایا ہے: ﴿يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ﴾ [سورة النساء: 1] ﴿رَقِيبًا﴾ [سورة النساء: 1] تک تلاوت کیا اور ﴿اتَّقُوا اللَّهَ وَلْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَا قَدَّمَتْ لِغَدٍ﴾ [سورة الحشر: 18] کو ﴿الْفَائِزُونَ﴾ [سورة الحشر: 20] تک پڑھا“ اور فرمایا: ”اس دن سے پہلے پہلے صدقہ کرو، جب تم صدقہ نہ کر پاؤ گے۔ صدقہ و خیرات کرو اس سے پہلے کہ وہ تمہارے اور صدقے کے درمیان حائل ہو جائے۔ آدمی اپنے دینار سے صدقہ کرے، اپنے درہم سے، اپنی گندم سے اور اپنے جو سے، اور تم میں سے کوئی صدقے کی کسی چیز کو ہرگز حقیر نہ سمجھے، اگرچہ آدھی کھجور ہی ہو۔“ ایک انصاری ایک تھیلی لے کر کھڑا ہوا جو اس کے ہاتھ میں تھی اور وہ رسول اللہ ﷺ کو پکڑا دی، آپ ﷺ منبر پر تھے اور آپ ﷺ نے اسے پکڑا ہوا تھا اور خوشی آپ ﷺ کے چہرے سے عیاں ہو رہی تھی تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”جس کسی نے اچھی روایت قائم کی اور اس پر عمل بھی کیا گیا تو اسے اس کا اجر ملے گا اور ان کے اجر کے برابر بھی جتنوں نے وہ عمل کیا ان کے اجر میں کمی کیے بغیر اور جس کسی نے بری روایت ڈالی اور اس کے مطابق عمل کیا گیا تو اس کے لیے اس کا گناہ ہو گا اور ان کا بھی جنہوں نے وہ گناہ کیا اور ان کے گناہوں میں سے کچھ کم نہیں کیا جائے گا“۔ پھر لوگ کھڑے ہو گئے اور بکھر گئے، سو جو کوئی درہم و دینار یا جس چیز کا مالک تھا انہوں نے جمع کر دیا اور رسول اللہ ﷺ نے ان میں تقسیم کر دیا۔