حدیث نمبر: 7741
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مَحْبُوبٍ بِمَرْوٍ، ثنا أَبُو عُثْمَانَ سَعِيدُ بْنُ مَسْعُودِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ثنا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، أنبأ شُعْبَةُ بْنُ الْحَجَّاجِ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ وَاللَّفْظُ لَهُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ فَارِسٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ عَوْنِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ الْمُنْذِرَ بْنَ جَرِيرٍ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ قَالَ: كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جُلُوسًا فِي صَدْرِ النَّهَارِ، فَجَاءَ قَوْمٌ حُفَاةٌ عُرَاةٌ مُجْتَابِي النِّمَارِ عَلَيْهِمُ الْعَبَاءُ أَوْ قَالَ: مُتَقَلِّدِي السُّيُوفِ عَامَّتُهُمْ مِنْ مُضَرَ بَلْ كُلُّهُمْ مِنْ مُضَرَ فَرَأَيْتُ وَجْهَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَغَيَّرُ لِمَا يَرَى بِهِمْ مِنَ الْفَاقَةِ فَدَخَلَ ثُمَّ خَرَجَ، فَأَمَرَ بِلَالًا فَأَقَامَ فَصَلَّى الظُّهْرَ فَخَطَبَ، ثُمَّ قَالَ: {" يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ "} [النساء: ١] إِلَى آخِرِ الْآيَةِ ثُمَّ قَالَ: {" يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللهَ وَلْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ لِغَدٍ "} [الحشر: ١٨] الْآيَةَ، تَصَدَّقَ رَجُلٌ مِنْ دِينَارِهِ مِنْ دِرْهَمِهِ مِنْ ثَوْبِهِ مِنْ صَاعِ بُرِّهِ مِنْ صَاعِ تَمْرِهِ " حَتَّى قَالَ: " وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ "، قَالَ: فَأَتَاهُ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ بِصُرَّةٍ قَدْ كَادَتْ كَفُّهُ أَنْ تَعْجِزُ عَنْهَا، بَلْ قَدْ عَجَزَتْ عَنْهَا فَدَفَعَهَا إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَتَابَعَ النَّاسُ فِي الصَّدَقَاتِ فَرَأَيْتُ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَوْمَيْنِ مِنْ طَعَامٍ وَثِيَابٍ وَجَعَلَ وَجْهُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَهَلَّلُ كَأَنَّهُ مُذْهَبَةٌ، وَقَالَ: " مَنْ سَنَّ فِي الْإِسْلَامِ سُنَّةً حَسَنَةً فَلَهُ أَجْرُهَا وَأَجْرُ مَنْ عَمِلَ بِهَا مِنْ بَعْدِهِ مِنْ غَيْرِ أَنْ يُنْتَقَصَ مِنْ أُجُورِهِمْ شَيْءٌ وَمَنْ سَنَّ فِي الْإِسْلَامِ سُنَةً سَيِّئَةً كَانَ عَلَيْهِ وِزْرُهَا وَوِزْرُ مَنْ عَمِلَ بِهَا مِنْ بَعْدِهِ مِنْ غَيْرِ ⦗٢٩٤⦘ أَنْ يُنْتَقَصَ مِنْ أَوْزَارِهِمْ شَيْءٌ ". لَفْظُ حَدِيثِ أَبِي دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ وَحَدِيثُ النَّضْرِ بِمَعْنَاهُ وَلَمْ يَذْكُرِ النَّضْرُ: عَلَيْهِمُ الْعَبَاءُ، رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُثَنَّى عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ عَنْ شُعْبَةَ، وَقَالَ مُجْتَابِي النِّمَارِ أَوِ الْعَبَاءِ مُتَقَلِّدِي السُّيُوفِ.
حافظ ثناء اللہ

سیدنا جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم دن کے ابتدائی حصے میں رسول اللہ ﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، تو ایک ایسی قوم آئی جو ننگے بدن اور ننگے پاؤں تھی، وہ چادریں لپیٹے ہوئے اور تلواریں لٹکائے ہوئے تھے، ان میں سے اکثر بلکہ وہ سب کے سب قبیلہ مضر سے تعلق رکھتے تھے۔ میں نے رسول اللہ ﷺ کے چہرہ مبارک کو دیکھا کہ ان کی فاقہ زدہ حالت دیکھ کر وہ متغیر (تبدیل) ہو رہا تھا۔ آپ ﷺ (گھر) داخل ہوئے، پھر باہر تشریف لائے، پھر سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا (تو انہوں نے اذان دی) اور اقامت کہی، پھر آپ ﷺ نے (ظہر کی) نماز پڑھائی اور خطبہ ارشاد فرمایا، پھر آپ ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی: ﴿يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ﴾ [سورة النساء: 1] اس آیت کو آخر تک تلاوت کیا، پھر آپ ﷺ نے یہ آیت پڑھی: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَلْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَا قَدَّمَتْ لِغَدٍ﴾ [سورة الحشر: 18]۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”کسی شخص نے اپنے دینار سے صدقہ کیا، کسی نے اپنے درہم سے، کسی نے اپنے کپڑے سے، کسی نے گندم کے ایک صاع سے اور کسی نے کھجور کے ایک صاع سے صدقہ کیا“ یہاں تک کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”خواہ کھجور کا ایک ٹکڑا ہی کیوں نہ ہو۔“ راوی بیان کرتے ہیں کہ انصار میں سے ایک آدمی ایک تھیلی لے کر آیا، قریب تھا کہ اس کا ہاتھ اسے اٹھانے سے عاجز آ جاتا، بلکہ وہ عاجز آ چکا تھا، وہ تھیلی اس نے رسول اللہ ﷺ کو پیش کی، پھر لوگوں نے صدقات دینے میں اس کی اتباع کی، یہاں تک کہ میں نے دیکھا کہ (غلے اور کپڑے کے) دو ڈھیر لگ چکے تھے اور میں نے دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ کا چہرہ مبارک سونے کی طرح چمک رہا تھا، تب آپ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے اسلام میں کوئی اچھا طریقہ جاری کیا، اسے اس کا اجر ملے گا اور ان لوگوں کا اجر بھی ملے گا جو اس کے بعد اس پر عمل کریں گے، بغیر اس کے کہ ان کے اجر میں کوئی کمی کی جائے، اور جس نے اسلام میں کوئی برا طریقہ جاری کیا، اس پر اس کا گناہ ہوگا اور اس کے بعد عمل کرنے والوں کا بھی، بغیر اس کے کہ ان کے گناہ میں کمی کی جائے۔“
نضر کی حدیث بھی اسی معنیٰ میں ہے، مگر نضر نے یہ ذکر نہیں کیا کہ ان پر عباء تھی، امام مسلم رحمہ اللہ نے اپنی صحیح میں محمد بن مثنیٰ کے حوالے سے بیان کیا کہ وہ دھاری دار چادریں یا پھر عبائیں پہنے ہوئے اور تلواریں لٹکائے ہوئے تھے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الزكاة / حدیث: 7741
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ أخرجه مسلم»