السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الزكاة— زکوۃ کا بیان
باب: ما دل على أن صاع النبي صلى الله عليه وسلم كان عياره خمسة أرطال وثلث. باب: ان دلائل کا بیان جو اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ نبی ﷺ کے صاع کا معیار پانچ اور ایک تہائی رطل تھا۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا الْخَصِيبُ بْنُ نَاصِحٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ الْمَدِينِيِّ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ صَاعَنَا أَصْغَرُ الصِّيعَانِ، وَمُدَّنَا أَصْغَرُ الْأَمْدَادِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اللهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي صَاعِنَا وَمُدِّنَا وَقَلِيلِنَا وَكَثِيرِنَا، وَاجْعَلْ لَنَا مَعَ الْبَرَكَةِ بَرَكَتَيْنِ، اللهُمَّ إَنَّ إِبْرَاهِيمَ عَبْدَكَ وَخَلِيلَكَ دَعَاكَ لِأَهْلِ مَكَّةَ وَإِنِّي عَبْدُكَ وَرَسُولُكَ أَدْعُوكَ لِأَهْلِ الْمَدِينَةِ بِمِثْلِ مَا دَعَاكَ بِهِ إِبْرَاهِيمُ لِأَهْلِ مَكَّةَ ". وَالَّذِي رَوَاهُ صَالِحُ بْنُ مُوسَى الطَّلْحِيُّ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا جَرَتِ السُّنَّةُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْغُسْلِ مِنَ الْجَنَابَةِ صَاعٌ وَالْوُضُوءُ رَطْلَيْنِ وَالصَّاعُ ثَمَانِيَةُ أَرْطَالٍ، فَإِنَّ صَالِحًا يَتَفَرَّدُ بِهِ وَهُوَ ضَعِيفُ الْحَدِيثِ، قَالَهُ يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ وَغَيْرُهُ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ بِالْحَدِيثِ، وَكَذَلِكَ مَا رُوِيَ عَنْ جَرِيرِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ وَمَا رُوِيَ عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَةَ عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَتَوَضَّأُ بِرَطْلَيْنِ وَيَغْتَسِلُ بِالصَّاعِ، ثَمَانِيَةُ أَرْطَالٍ إِسْنَادُهُمَا ضَعِيفٌ وَالصَّحِيحُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ بِالْمُدِّ وَيَغْتَسِلُ بِالصَّاعِ إِلَى ⦗٢٨٨⦘ خَمْسَةِ أَمْدَادٍ، ثُمَّ قَدْ أَخْبَرَتْ أَسْمَاءُ بِنْتُ أَبِي بَكْرٍ أَنَّهُمْ كَانُوا يُخْرِجُونَ زَكَاةَ الْفِطْرِ بِالصَّاعِ الَّذِي يَقْتَاتُونَ بِهِ فَدَلَّ ذَلِكَ عَلَى مُخَالَفَةِ صَاعِ الزَّكَاةِ وَالْقُوتِ صَاعَ الْغُسْلِ. ثُمَّ قَدْ رَوَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّهَا كَانَتْ تَغْتَسِلُ هِيَ وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ إِنَاءٍ قَدْرَ الْفَرَقِ، وَقَدْ دَلَّلْنَا عَلَى أَنَّ الْفَرَقَ ثَلَاثَةُ آصُعٍ، فَإِذَا كَانَ الصَّاعُ خَمْسَةَ أَرْطَالٍ وَثُلُثًا، كَانَ قَدْرُ مَا يَغْتَسِلُ بِهِ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا ثَمَانِيَةَ أَرْطَالٍ وَهُوَ صَاعٌ وَنِصْفٌ، وَقَدْرُ مَا يَغْتَسِلُ بِهِ كَانَ يَخْتَلِفُ بِاخْتِلَافِ الِاسْتِعْمَالِ فَلَا مَعْنَى لِتَرْكِ الْأَحَادِيثِ الصَّحِيحَةِ فِي قَدْرِ الصَّاعِ الْمُعَدِّ لِزَكَاةِ الْفِطْرِ بِمِثْلِ هَذَا وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ.سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ لوگوں نے رسول اللہ ﷺ سے کہا: اے اللہ کے رسول! ہمارا صاع تمام صاعوں سے چھوٹا ہے اور ہمارا مد تمام مدوں سے چھوٹا ہے، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اے اللہ! تو ہمارے صاع اور ہمارے مد میں برکت ڈال دے، ہمارے تھوڑے میں اور ہمارے زیادہ میں ایک برکت کے ساتھ دو برکات نازل فرما۔ اے اللہ! بیشک ابراہیم تیرے بندے اور تیرے خلیل نے اہل مکہ کے لیے دعا کی اور میں تیرا بندہ اور تیرا رسول تجھ سے اہل مدینہ کے لیے ویسی ہی دعا کرتا ہوں جو ابراہیم نے اہل مکہ کے لیے کی تھی۔“
رہی وہ روایت جو صالح بن موسیٰ طلحی نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل کی ہے کہ غسل جنابت میں رسول اللہ ﷺ کی سنت ایک صاع (پانی) تھا اور وضو کے لیے دو رطل تھے اور صاع آٹھ رطل کا ہوتا ہے، تو اسے بیان کرنے میں صالح منفرد ہیں اور وہ ضعیف الحدیث ہیں، یہ بات یحییٰ بن معین اور دیگر اہل علم محدثین نے کہی ہے۔
اسی طرح سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ وضو دو رطل سے اور غسل ایک صاع سے کرتے تھے، جو آٹھ رطل کا ہوتا ہے، ان دونوں کی سند ضعیف ہے، اور سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے صحیح یہ ہے کہ آپ ایک مد سے وضو کیا کرتے تھے اور غسل ایک صاع سے پانچ مد تک کرتے۔
پھر سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما نے بتایا کہ لوگ اسی صاع سے صدقہ فطر دیتے تھے جس سے اپنی خوراک ناپتے تھے۔
یہ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ زکوٰۃ اور خوراک والا صاع غسل والے صاع سے مختلف ہے۔ پھر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ وہ اور رسول اللہ ﷺ ایک فرق کے برابر برتن سے غسل کرتے تھے، اور یہ بات ہم واضح کر چکے ہیں کہ فرق تین صاع کا ہوتا ہے۔ جب صاع پانچ رطل اور ایک تہائی رطل کا ہو تو ان میں سے ہر ایک کے غسل کی مقدار آٹھ رطل ہوئی، جو ڈیڑھ صاع ہے، اور غسل کی مقدار استعمال کے لحاظ سے مختلف ہو جاتی تھی، لہٰذا اس جیسی بات کی وجہ سے ان احادیث صحیحہ کو ترک کرنے کا کوئی مطلب نہیں جن میں صدقہ فطر کے لیے مقرر صاع کی مقدار بیان کی گئی ہے، وباللہ التوفیق۔