السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الزكاة— زکوۃ کا بیان
باب: ما دل على أن صاع النبي صلى الله عليه وسلم كان عياره خمسة أرطال وثلث. باب: ان دلائل کا بیان جو اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ نبی ﷺ کے صاع کا معیار پانچ اور ایک تہائی رطل تھا۔
حدیث نمبر: 7723
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، قَالَ: قَرَأْتُ بِخَطِّ أَبِي عَمْرٍو الْمُسْتَمْلِي، سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ يَحْيَى يَعْنِي الذُّهْلِيَّ، يَقُولُ: " اسْتَعَرْتُ مِنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي أُوَيْسٍ صَاعَ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، فَوَجَدْتُ عَلَيْهِ مَكْتُوبًا صَاعُ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، مُعَيَّرٌ عَلَى صَاعِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَا أَحْسَبُنِي إِلَّا عَيَّرْتُهُ بِالْعَدَسِ، فَوَجَدْتُهُ خَمْسَةَ أَرْطَالٍ وَثُلُثًا ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی ہرگز یہ نہ کہے: «اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي إِنْ شِئْتَ، اللَّهُمَّ ارْحَمْنِي إِنْ شِئْتَ» ”اے اللہ! اگر تو چاہے تو مجھے بخش دے، اے اللہ! اگر تو چاہے تو مجھ پر رحم فرما“ بلکہ اسے چاہیے کہ پختہ عزم کے ساتھ سوال کرے، اس لیے کہ اسے کوئی مجبور کرنے والا نہیں ہے۔“