السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الزكاة— زکوۃ کا بیان
باب: زكاة الركاز. باب: رکاز (دفن شدہ خزانے) کی زکوٰۃ کا بیان۔
حدیث نمبر: 7650
وَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ أَنَّهُ سَمِعَ بَعْضَ أَهْلِ الْعِلْمِ يَقُولُونَ فِي الرِّكَازِ: " إِنَّمَا هُوَ دَفْنُ الْجَاهِلِيَّةِ مَا لَمْ يُطْلَبْ بِمَالٍ وَلَمْ يُكَلَّفْ فِيهِ كَبِيرُ عَملٍ، فَأَمَّا مَا طُلِبَ بِمَالٍ أَوْ كُلِّفَ فِيهِ كَبِيرُ عَمَلٍ فَأُصِيبَ مَرَّةً وَأُخْطِئَ مَرَّةً فَلَيْسَ بِرِكَازٍ " وَرَوَى أَبُو دَاوُدَ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ عَنْ عَبَّادِ بْنِ الْعَوَّامِ عَنْ هِشَامٍ، عَنِ الْحَسَنِ قَالَ: " الرِّكَازُ الْكَنْزُ الْعَادِي ". وَسَقَطَ ذَلِكَ مِنْ كِتَابِي.حافظ ثناء اللہ
ابن بکیر رحمہ اللہ، امام مالک رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے کچھ علما کو یہ بات کرتے سنا کہ «الرِّکَازُ» جاہلیت کا مدفون خزانہ ہے، جسے مال خرچ کر کے تلاش نہ کیا گیا ہو اور نہ ہی اس میں کوئی بڑی محنت کرنی پڑی ہو۔ لیکن جسے مال خرچ کر کے تلاش کیا گیا یا اس میں بڑی محنت کرنی پڑی، تو کبھی وہ مل جاتا ہے اور کبھی نہیں ملتا، تو وہ رکاز نہیں۔