حدیث نمبر: 7645
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، أنبأ حَاجِبُ بْنُ أَحْمَدَ الطُّوسِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ مُنِيبٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، وَسَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، سَمِعَاهُ مِنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، يُخْبِرُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " الْعَجْمَاءُ جَرْحُهَا جُبَارٌ وَالْبِئْرُ جُبَارٌ وَالْمَعْدِنُ جُبَارٌ وَفِي الرِّكَازِ الْخُمُسُ "..
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”چوپائے کا زخم رائیگاں ہے اور کنواں رائیگاں ہے اور کان بھی رائیگاں ہے اور رکاز (مدفون خزانے) میں خمس ہے۔“
حدیث نمبر: 7646
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنبأ سُفْيَانُ فَذَكَرَهُ بِنَحْوِهِ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى وَغَيْرِهِ.
حافظ ثناء اللہ
یحییٰ بن یحییٰ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سفیان رحمہ اللہ نے ہمیں خبر دی اور ایسی ہی حدیث بیان کی۔
حدیث نمبر: 7647
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْعَبْدِيُّ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، وَأَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " جُرْحُ الْعَجْمَاءِ جُبَارٌ، وَالْبِئْرِ جُبَارٌ، وَالْمَعْدِنِ جُبَارٌ وَفِي الرِّكَازِ الْخُمُسُ ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يُوسُفَ عَنْ مَالِكٍ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ مَالِكٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”چوپائے کا زخم رائیگاں ہے (مالک پر جرمانہ نہیں) اور کنواں رائیگاں ہے اور معدن رائیگاں ہے اور رکاز (مدفون خزانے) میں خمس ہے۔“
حدیث نمبر: 7648
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، وَغَيْرُهُ قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أَخْبَرَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ، أنبأ سُفْيَانُ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ شَابُورَ، وَيَعْقُوبَ بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: فِي كَنْزٍ وَجَدَهُ رَجُلٌ فِي خَرِبَةٍ جَاهِلِيَّةٍ: " إِنْ وَجَدْتَهُ فِي قَرْيَةٍ مَسْكُونَةٍ أَوْ سَبِيلٍ مِئْتَاءٍ فَعَرِّفْهُ وَإِنْ وَجَدْتَهُ فِي خَرِبَةٍ جَاهِلِيَّةٍ أَوْ فِي قَرْيَةٍ غَيْرِ مَسْكُونَةٍ فَفِيهِ وَفِي الرِّكَازِ الْخُمُسُ ".
حافظ ثناء اللہ
عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے اس کنز (خزانے) کے بارے میں، جسے لوگ پرانے مکانات سے حاصل کرتے ہیں، فرمایا: ”اگر تو وہ آباد گھر سے ملا ہے یا آباد راستے سے تو اس کا اعلان کرے اور اگر اس نے جاہلیت کے پرانے مکان یا بے آباد بستی سے حاصل کیا ہے تو اس میں اور رکاز میں خمس ہے۔“
حدیث نمبر: 7649
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ الْخَوَّاصُ، ثنا بَكَّارُ بْنُ قُتَيْبَةَ، ثنا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، ثنا زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ أَخْبَرَهُ قَالَ: قَدِمْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَخَلَ صَاحِبٌ لَنَا خَرِبَةً يَقْضِي فِيهَا حَاجَتَهُ، فَذَهَبَ لِيَتَنَاوَلَ مِنْهَا لَبِنَةً فَانْهَارَتْ عَلَيْهِ تِبْرًا فَأَخَذَهَا فَأَتَى ⦗٢٦٢⦘ بِهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " زِنْهَا " فَوَزَنَهَا فَإِذَا هِيَ مِائَتَيْ دِرْهَمٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " هَذَا رِكَازٌ وَفِيهِ الْخُمُسُ ". عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ضَعِيفٌ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے، ہمارا ایک ساتھی قضائے حاجت کے لیے ویران جگہ میں داخل ہوا تو اسے سونے کی ایک گٹھلی نظر آئی۔ وہ اسے نبی کریم ﷺ کے پاس لے کر آیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس کا وزن کرو۔“ وزن کیا گیا تو وہ دو سو درہم تھی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”یہ رکاز ہے اس میں خمس ہے۔“
حدیث نمبر: 7650
وَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ أَنَّهُ سَمِعَ بَعْضَ أَهْلِ الْعِلْمِ يَقُولُونَ فِي الرِّكَازِ: " إِنَّمَا هُوَ دَفْنُ الْجَاهِلِيَّةِ مَا لَمْ يُطْلَبْ بِمَالٍ وَلَمْ يُكَلَّفْ فِيهِ كَبِيرُ عَملٍ، فَأَمَّا مَا طُلِبَ بِمَالٍ أَوْ كُلِّفَ فِيهِ كَبِيرُ عَمَلٍ فَأُصِيبَ مَرَّةً وَأُخْطِئَ مَرَّةً فَلَيْسَ بِرِكَازٍ " وَرَوَى أَبُو دَاوُدَ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ عَنْ عَبَّادِ بْنِ الْعَوَّامِ عَنْ هِشَامٍ، عَنِ الْحَسَنِ قَالَ: " الرِّكَازُ الْكَنْزُ الْعَادِي ". وَسَقَطَ ذَلِكَ مِنْ كِتَابِي.
حافظ ثناء اللہ
ابن بکیر رحمہ اللہ، امام مالک رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے کچھ علما کو یہ بات کرتے سنا کہ «الرِّکَازُ» جاہلیت کا مدفون خزانہ ہے، جس سے مال طلب نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی اسے کسی بڑے عمل کا مکلف بنایا جا سکتا ہے۔ لیکن جس سے مال طلب کیا گیا یا بڑے عمل کا مکلف بنایا گیا تو ایک مرتبہ اسے حاصل ہو جاتا ہے اور ایک مرتبہ حاصل نہیں ہوتا، اس لیے وہ خزانہ نہیں۔