السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الزكاة— زکوۃ کا بیان
باب: من أجرى بالخمس الواجب فيه مجرى الصدقات فقد سماه المقداد بين يدي النبي صلى الله عليه وسلم صدقة ولم ينكره. باب: اس شخص کا بیان جس نے رکاز میں واجب ہونے والے خمس کو زکوٰۃ کے قائم مقام قرار دیا، یقیناً مقداد رضی اللہ عنہ نے نبی ﷺ کے سامنے اسے صدقہ (زکوٰۃ) کا نام دیا تھا اور آپ ﷺ نے اس پر انکار نہیں فرمایا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُسَافِرٍ، ثنا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، ثنا الزَّمْعِيُّ، عَنْ عَمَّتِهِ قُرَيْبَةَ بِنْتِ عَبْدِ اللهِ بْنِ وَهْبٍ عَنْ أُمِّهَا كَرِيمَةَ بِنْتِ الْمِقْدَادِ، عَنْ ضُبَاعَةَ بِنْتِ الزُّبَيْرِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ بْنِ هَاشِمٍ، أَنَّهَا أَخْبَرَتْهَا قَالَتْ: ذَهَبَ الْمِقْدَادُ لِحَاجَتِهِ بِبَقِيعِ الْخَبْخَبَةِ فَإِذَا جُرَذٌ يُخْرِجُ مِنْ جُحْرٍ دِينَارًا ثُمَّ لَمْ يَزَلْ يُخْرِجُ دِينَارًا دِينَارًا حَتَّى أَخْرَجَ سَبْعَةَ عَشَرَ دِينَارًا، ثُمَّ أَخْرَجَ خِرْقَةً حَمْرَاءَ يَعْنِي فِيهَا دِينَارٌ فَكَانَتْ ثَمَانِيَةَ عَشَرَ دِينَارًا فَذَهَبَ بِهَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ، وَقَالَ لَهُ: خُذْ صَدَقَتَهَا فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " هَلْ هَوَيْتَ إِلَى الْجُحْرِ؟ " قَالَ: لَا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " بَارَكَ اللهُ لَكَ فِيهَا ".سیدہ ضباعہ بنت زبیر بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ سیدنا مقداد رضی اللہ عنہ اپنی حاجت کے لیے بقیع گئے تو انہوں نے ایک چوہے کو دیکھا جو بل میں سے دینار نکال رہا تھا، پھر وہ ایک ایک کر کے دینار نکالتا رہا حتیٰ کہ اس نے سترہ دینار نکالے۔ پھر ایک سرخ کپڑے کا ٹکڑا نکالا اس میں ایک دینار تھا تو وہ اٹھارہ دینار ہو گئے۔ وہ انہیں لے کر نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور پوری خبر دی اور کہا: اس کی زکوٰۃ لے لیں، تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”کیا تو نے بل کی طرف جھک کر دیکھا؟“ انہوں نے کہا: نہیں، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «بَارَكَ اللّٰهُ لَكَ فِيهَا» ”اللہ تجھے ان میں برکت دے۔“