السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الزكاة— زکوۃ کا بیان
باب: زكاة المعدن ومن قال: المعدن ليس بركاز باب: کان (معدن) کی زکوٰۃ، اور ان کا بیان جنھوں نے کہا کہ ”کان رکاز (دفون خزانہ) نہیں ہے“۔
لِقَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْمَعْدِنُ جُبَارٌ وَفِي الرِّكَازِ الْخُمُسُ " فَفَصَلَ بَيْنَهُمَا فِي الذِّكْرِ وَأَضَافَ الْخُمُسَ إِلَى الرِّكَازِ..نبی کریم ﷺ کے اس فرمان کی وجہ سے: ”کان (میں گر کر مرنے والے کا خون) رائیگاں ہے، اور رکاز (دبے ہوئے خزانے) میں پانچواں حصہ (خمس) ہے۔“
پس آپ ﷺ نے ذکر میں ان دونوں کے درمیان فرق بیان کیا ہے اور خمس (پانچویں حصے) کو رکاز کی طرف منسوب کیا ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ غَيْرِ وَاحِدٍ مِنْ عُلَمَائِهِمْ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَطَعَ لِبِلَالِ بْنِ الْحَارِثِ الْمُزَنِيِّ مَعَادِنَ الْقَبَلِيَّةِ وَهِيَ مِنْ نَاحِيَةِ الْفَرْعِ فَتِلْكَ الْمَعَادِنُ لَا يُؤْخَذُ مِنْهَا إِلَّا الزَّكَاةُ إِلَى الْيَوْمِ. قَالَ الشَّافِعِيُّ لَيْسَ هَذَا مِمَّا يُثْبِتُ أَهْلُ الْحَدِيثِ، وَلَوْ ثَبَتُوهُ لَمْ تَكُنْ فِيهِ رِوَايَةٌ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا إِقْطَاعَهُ فَأَمَّا الزَّكَاةُ فِي الْمَعَادِنِ دُونَ الْخُمُسِ فَلَيْسَتْ مَرْوِيَّةً عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِ. قَالَ الشَّيْخُ: هُوَ كَمَا قَالَ الشَّافِعِيُّ فِي رِوَايَةِ مَالِكٍ، وَقَدْ رُوِيَ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ الدَّرَاوَرْدِيِّ عَنْ رَبِيعَةَ مَوْصُولًا.ربیعہ بن ابوعبدالرحمن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے بلال بن حارث مزنی رضی اللہ عنہ کو قبلیہ کی کانوں میں سے دیا اور وہ فرع کی جانب تھیں، یہ معادن (کانیں) ایسی تھیں کہ ان سے زکوۃ نہیں لی جاتی تھی سوائے روزینے (یومیہ) کے۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ اس میں سے ہے جو اہل حدیث سے ثابت ہے، اگر وہ ثابت ہو جس میں نبی کریم ﷺ سے روایت نہیں ہے سوائے منقطع روایت کے، لیکن کان میں زکوۃ خمس کے علاوہ نبی کریم ﷺ سے منقول نہیں۔ شیخ رحمہ اللہ نے بھی وہی بات کہی ہے جو امام شافعی رحمہ اللہ نے کہی ہے۔