السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الزكاة— زکوۃ کا بیان
باب: من قال يجوز الابتياع مع الكراهية وأنه يجوز أن يملك ما خرج من يديه بما يحل به الملك باب: ان کا بیان جنھوں نے کہا کہ ”کراہت کے ساتھ اسے خریدنا جائز ہے، اور جو مال اس کے ہاتھ سے نکل چکا ہو، جائز اسبابِ ملکیت کے ذریعے اس کا دوبارہ مالک بننا بھی جائز ہے“۔
حدیث نمبر: 7635
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنُ دَاوُدَ الْعَلَوِيُّ أنبأ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْحَافِظُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ، ثنا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ عَطَاءٍ الْمَدَنِيُّ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ بُرَيْدَةَ الْأَسْلَمِيُّ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَتْهُ امْرَأَةٌ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنِّي كُنْتُ تَصَدَّقْتُ بِوَلِيدَةٍ عَلَى أُمِّي فَمَاتَتْ أُمِّي وَبَقِيَتِ الْوَلِيدَةُ. قَالَ: " قَدْ وَجَبَ أَجْرُكِ وَرَجَعَتْ إِلَيْكِ فِي الْمِيرَاثِ ". قَالَتْ: فَإِنَّهَا مَاتَتْ وَعَلَيْهَا ⦗٢٥٦⦘ صَوْمُ شَهْرٍ قَالَ: " صُوْمِي عَنْ أُمِّكِ " قَالَتْ: وَإِنَّهَا مَاتَتْ وَلَمْ تَحُجَّ قَالَ: " فَحُجِّي عَنْ أُمُّكِ ". أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ أَوْجُهٍ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَطَاءٍ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن بریدہ اسلمی رحمہ اللہ اپنے والد (سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ) سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نبی کریم ﷺ کے پاس تھا، ایک عورت آئی اور کہنے لگی: اے اللہ کے رسول! میں نے ایک باندی اپنی ماں کو صدقہ میں دی، میری ماں فوت ہو گئی اور وہ باندی باقی رہ گئی تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”تیرا اجر ثابت ہو چکا اور وہ باندی میراث میں تیری طرف پلٹ آئی۔“ پھر اس نے کہا: وہ فوت ہو چکی ہے اور اس کے ذمے ایک ماہ کے روزے تھے! آپ ﷺ نے فرمایا: ”اپنی ماں کی طرف سے روزے رکھ۔“ پھر اس نے کہا کہ انہوں نے حج بھی نہیں کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اپنی ماں کی طرف سے حج کر۔“