السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الزكاة— زکوۃ کا بیان
باب: بيع الصدقة قبل وصولها إلى أهلها من غير حاجة. باب: زکوٰۃ کے مال کو مستحقین تک پہنچنے سے قبل بغیر کسی ضرورت کے فروخت کر دینے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، حَدَّثَنِي شَيْخٌ، مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ قَالَ: سَمِعْتُ طَاوُسًا، وَأَنَا وَاقِفٌ عَلَى رَأْسِهِ يَسْأَلُ عَنْ بَيْعِ الصَّدَقَةِ قَبْلَ أَنْ تُقْبَضَ، فَقَالَ طَاوُسٌ: " وَرَبِّ هَذَا الْبَيْتِ لَا يَحِلُّ بَيْعُهَا قَبْلَ أَنْ تُقْبَضَ وَلَا بَعْدَ أَنْ تُقْبَضَ " قَالَ الشَّافِعِيُّ: لِأَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ أَنْ تُؤْخَذَ مِنْ أَغْنِيَائِهِمْ فَتُرَدَّ عَلَى فُقَرَائِهِمْ فُقَرَاءِ أَهْلِ السُّهْمَانِ فَتُرَدُّ بِعَيْنِهَا وَلَا يُرَدُّ ثَمَنُهَا. ⦗٢٥٤⦘ قَالَ الشَّيْخُ: وَالْأَخْبَارُ الَّتِي وَرَدَتْ فِي فَرَائِضِ الصَّدَقَاتِ وَتَقْدِيرِ الْجُبْرَانَاتِ دَلِيلٌ فِي هَذِهِ الْمَسْأَلَةِ.امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مجھے اہل مکہ کے ایک شیخ نے کہا: میں نے طاؤس رحمہ اللہ کو کہتے ہوئے سنا جب کہ میں ان کے پاس کھڑا تھا اور وہ زکاۃ کے قبضے میں آنے سے پہلے فروخت کرنے کے بارے میں پوچھ رہے تھے تو طاؤس رحمہ اللہ نے کہا: مجھے اس گھر کے رب کی قسم! اس کا فروخت کرنا روا نہیں اس سے پہلے کہ اسے قبضے میں لیا جائے اور نہ ہی قبضے میں آنے کے بعد۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں، یہ اس لیے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اسے امیروں سے لے کر محتاجوں کو دے دیا جائے۔“ حاجت مندوں اور فقراء کو اصل چیز دی جائے نہ کہ اس کی قیمت۔
شیخ فرماتے ہیں: وہ روایات جو صدقات کے فرض ہونے میں وارد ہوئیں، وہ اس مسئلے کی دلیل ہیں۔