السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الزكاة— زکوۃ کا بیان
باب: تحريم تحلي الرجال بالذهب باب: مردوں کے لیے سونے کا زیور پہننے کی حرمت کا بیان۔
حدیث نمبر: 7586
كَمَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَخْتَوَيْهِ، ثنا يَزِيدُ بْنُ الْهَيْثَمِ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي اللَّيْثِ، ثنا الْأَشْجَعِيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ يَعْلَى بْنِ مُرَّةَ الثَّقَفِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ قَالَ: أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ عَلَيْهِ خَاتَمٌ مِنْ ذَهَبٍ عَظِيمٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَتُؤَدِّي زَكَاةَ هَذَا "؟ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، وَمَا زَكَاةُ هَذَا؟ قَالَ: فَلَمَّا أَدْبَرَ الرَّجُلُ، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " جَمْرَةٌ عَظِيمَةٌ ".حافظ ثناء اللہ
عمر بن یعلیٰ ثقفی اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ کے پاس ایک آدمی آیا، جس کے پاس سونے کی بڑی انگوٹھی تھی تو نبی ﷺ نے فرمایا: ”کیا تو نے اسے پاک کیا ہے؟“ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس کی زکوٰۃ کیا ہے؟ وہ کہتے ہیں: جب آدمی واپس پلٹا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ بڑا انگارہ ہے۔“