حدیث نمبر: 7584
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْبَخْتَرِيِّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ الْوَلِيدِ الْفَحَّامُ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ خَاتَمِ الذَّهَبِ. أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ وَمُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ غُنْدَرٍ عَنْ شُعْبَةَ، وَقَدْ مَضَى فِي هَذَا حَدِيثُ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ وَالْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ وَالْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِي كَرِبَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ”سونے کی انگوٹھی پہننے سے منع فرمایا“۔
حدیث نمبر: 7585
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا عُبَيْدُ بْنُ شَرِيكٍ، ثنا صَفْوَانُ، ثنا الْوَلِيدُ، ثنا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ عُمَرَ بْنِ يَعْلَى الطَّائِفِيِّ الثَّقَفِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفِي إِصْبَعِي خَاتَمٌ مِنْ ذَهَبٍ، فَقَالَ: " تُؤَدِّي زَكَاةَ هَذَا؟ " فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللهِ، وَهَلْ فِي ذَا زَكَاةٌ؟ قَالَ: " نَعَمْ جَمْرَةٌ عَظِيمَةٌ ". قَالَ الْوَلِيدُ: فَقُلْتُ لِسُفْيَانَ كَيْفَ تُؤَدِّي زَكَاةَ خَاتَمٍ وَإِنَّمَا قَدْرُهُ مِثْقَالٌ أَوْ نَحْوُهُ، قَالَ: تُضِيفُهُ إِلَى مَا تَمْلِكُ فِيمَا يَجِبُ فِي وَزْنِهِ الزَّكَاةُ، ثُمَّ تُزَكِّيهِ. وَكَذَلِكَ رَوَاهُ جَمَاعَةٌ عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ مُسْلِمٍ وَرَوَاهُ أَيْضًا الْأَشْجَعِيُّ عَنِ الثَّوْرِيِّ.
حافظ ثناء اللہ
عمر بن یعلیٰ طائفی ثقفی اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نبی کریم ﷺ کے پاس آیا تو میری انگلی میں سونے کی انگوٹھی تھی، آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو نے اس کی زکوۃ ادا کی ہے؟“ وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: کیا اس میں بھی زکوۃ ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ بہت بڑا کوئلہ ہے۔“ ولید کہتے ہیں: میں نے سفیان رحمہ اللہ سے کہا: انگوٹھی کی زکوۃ کیسے ادا کی جاتی ہے؟ اس کی مقدار تو ایک مثقال یا اس کے برابر ہوتی ہے! انہوں نے فرمایا: اسے وزن میں ان چیزوں کے ساتھ ملا لیا جائے گا جن پر زکوۃ واجب ہوتی ہے پھر اس کی زکوۃ ادا کردی جائے۔
حدیث نمبر: 7586
كَمَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَخْتَوَيْهِ، ثنا يَزِيدُ بْنُ الْهَيْثَمِ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي اللَّيْثِ، ثنا الْأَشْجَعِيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ يَعْلَى بْنِ مُرَّةَ الثَّقَفِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ قَالَ: أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ عَلَيْهِ خَاتَمٌ مِنْ ذَهَبٍ عَظِيمٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَتُؤَدِّي زَكَاةَ هَذَا "؟ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، وَمَا زَكَاةُ هَذَا؟ قَالَ: فَلَمَّا أَدْبَرَ الرَّجُلُ، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " جَمْرَةٌ عَظِيمَةٌ ".
حافظ ثناء اللہ
عمر بن یعلیٰ ثقفی اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ کے پاس ایک آدمی آیا، جس کے پاس سونے کی بڑی انگوٹھی تھی تو نبی ﷺ نے فرمایا: ”کیا تو نے اسے پاک کیا ہے؟“ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس کی زکوٰۃ کیا ہے؟ وہ کہتے ہیں: جب آدمی واپس پلٹا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ بڑا انگارہ ہے۔“