حدیث نمبر: 7585
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا عُبَيْدُ بْنُ شَرِيكٍ، ثنا صَفْوَانُ، ثنا الْوَلِيدُ، ثنا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ عُمَرَ بْنِ يَعْلَى الطَّائِفِيِّ الثَّقَفِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفِي إِصْبَعِي خَاتَمٌ مِنْ ذَهَبٍ، فَقَالَ: " تُؤَدِّي زَكَاةَ هَذَا؟ " فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللهِ، وَهَلْ فِي ذَا زَكَاةٌ؟ قَالَ: " نَعَمْ جَمْرَةٌ عَظِيمَةٌ ". قَالَ الْوَلِيدُ: فَقُلْتُ لِسُفْيَانَ كَيْفَ تُؤَدِّي زَكَاةَ خَاتَمٍ وَإِنَّمَا قَدْرُهُ مِثْقَالٌ أَوْ نَحْوُهُ، قَالَ: تُضِيفُهُ إِلَى مَا تَمْلِكُ فِيمَا يَجِبُ فِي وَزْنِهِ الزَّكَاةُ، ثُمَّ تُزَكِّيهِ. وَكَذَلِكَ رَوَاهُ جَمَاعَةٌ عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ مُسْلِمٍ وَرَوَاهُ أَيْضًا الْأَشْجَعِيُّ عَنِ الثَّوْرِيِّ.
حافظ ثناء اللہ

عمر بن یعلیٰ طائفی ثقفی اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نبی کریم ﷺ کے پاس آیا تو میری انگلی میں سونے کی انگوٹھی تھی، آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو نے اس کی زکوۃ ادا کی ہے؟“ وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: کیا اس میں بھی زکوۃ ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ بہت بڑا کوئلہ ہے۔“ ولید کہتے ہیں: میں نے سفیان رحمہ اللہ سے کہا: انگوٹھی کی زکوۃ کیسے ادا کی جاتی ہے؟ اس کی مقدار تو ایک مثقال یا اس کے برابر ہوتی ہے! انہوں نے فرمایا: اسے وزن میں ان چیزوں کے ساتھ ملا لیا جائے گا جن پر زکوۃ واجب ہوتی ہے پھر اس کی زکوۃ ادا کردی جائے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الزكاة / حدیث: 7585
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف جداً
تخریج حدیث «ضعيف جداً۔ أخرجه أحمد»