السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الزكاة— زکوۃ کا بیان
باب: من قال لا زكاة في الحلي. باب: ان ائمہ کا بیان جنھوں نے کہا کہ ”زیورات میں زکوٰۃ نہیں ہے“۔
حدیث نمبر: 7539
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَغَيْرُهُ قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنبأ الرَّبِيعُ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَجُلًا يَسْأَلُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ عَنِ الْحُلِيِّ أَفِيهِ الزَّكَاةُ؟ فَقَالَ جَابِرٌ: " لَا "، فَقَالَ: وَإِنْ كَانَ يَبْلُغُ أَلْفَ دِينَارٍ فَقَالَ جَابِرٌ: " كَثِيرٌ ".حافظ ثناء اللہ
عمرو بن دینار رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے ایک شخص سے سنا کہ وہ جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے زیور کی زکوٰۃ کے بارے میں پوچھ رہا تھا تو جابر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: نہیں، پھر اسے کہا: اگرچہ وہ ہزار دینار تک پہنچ جائے؟ تو جابر رضی اللہ عنہما نے کہا: اس سے بھی زیادہ ہو جائے تب بھی۔