السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الزكاة— زکوۃ کا بیان
باب: من قال لا زكاة في الحلي. باب: ان ائمہ کا بیان جنھوں نے کہا کہ ”زیورات میں زکوٰۃ نہیں ہے“۔
حدیث نمبر: 7538
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنبأ عَبْدُ الْوَهَّابِ، أنبأ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ نَافِعٍ، قَالَ: كَانَ ابْنُ عُمَرَ يُحَلِّي بَنَاتِهِ بِأَرْبَعِ مِائَةِ دِينَارٍ فَلَا يُخْرِجُ زَكَاتَهُ.حافظ ثناء اللہ
اسامہ بن زید، نافع سے نقل فرماتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما اپنی بیٹیوں کے لیے چار سو دینار کے زیور بناتے لیکن اس کی زکاۃ نہیں نکالتے تھے۔