السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الزكاة— زکوۃ کا بیان
باب: المسلم يزرع أرضا من أرض الخراج فيكون عليه في زرعه العشر أو نصف العشر باب: مسلمان خراجی زمینوں میں سے کسی زمین پر کاشت کرے تو اس کی پیداوار پر اسے عشر (دسواں حصہ) یا نصف عشر (بیسواں حصہ) ادا کرنا ہوگا۔
حدیث نمبر: 7498
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، ثنا الْحَسَنُ، ثنا يَحْيَى، ثنا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ يُونُسَ، قَالَ: سَأَلْتُ الزُّهْرِيَّ عَنْ زَكَاةِ الْأَرْضِ الَّتِي عَلَيْهَا الْجِزْيَةُ فَقَالَ: " لَمْ يَزَلِ الْمُسْلِمُونَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبَعْدَهُ يُعَامَلُونَ عَلَى الْأَرْضِ وَيَسْتَكْرُونَهَا وَيُؤَدُّونَ الزَّكَاةَ مِمَّا خَرَجَ مِنْهَا فَنَرَى هَذِهِ الْأَرْضَ عَلَى نَحْوِ ذَلِكَ " وَالْكَلَامُ فِي سَوَادِ الْعِرَاقِ مَوْضِعُهُ كِتَابُ الْجِزْيَةِ. ⦗٢٢٢⦘ فَأَمَّا الْحَدِيثُ الَّذِي.حافظ ثناء اللہ
یونس رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے زہری رحمہ اللہ سے اس زمین کی زکوٰۃ کے بارے میں پوچھا جس پر ٹیکس ہو، تو انہوں نے فرمایا: مسلمان ہمیشہ رسول اللہ ﷺ کے دور میں اور اس کے بعد بھی ایسا ہی کیا کرتے تھے اور کرائے پر لیا کرتے تھے مگر زکوٰۃ بھی ادا کیا کرتے تھے، ہم اس زمین کو بھی ویسے ہی تصور کرتے ہیں۔