السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الزكاة— زکوۃ کا بیان
باب: الصدقة فيما يزرعه الآدميون وييبس ويدخر ويقتات دون ما تنبته الأرض من الخضر. باب: زکوٰۃ صرف اس پیداوار میں واجب ہے جسے انسان خود کاشت کرتے ہیں، جو خشک کی جاتی ہے، ذخیرہ کی جاتی ہے اور بطور خوراک استعمال ہوتی ہے، نہ کہ زمین کی اگائی ہوئی ان سبزیوں میں جو ان صفات سے خالی ہوں۔
حدیث نمبر: 7483
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، ثنا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عُمَرَ قَالَ: " لَيْسَ فِي الْخُضْرَاوَاتِ صَدَقَةٌ " وَرَوَاهُ جَمَاعَةٌ عَنْ لَيْثِ بْنِ أَبِي سُلَيْمٍ وَرُوِّينَاهُ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ مَوْصُولًا عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي بَابِ النَّخْلِ.حافظ ثناء اللہ
حضرت مجاہد رحمہ اللہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ: ”سبزیوں میں زکوۃ نہیں۔“