السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الزكاة— زکوۃ کا بیان
باب: الصدقة فيما يزرعه الآدميون وييبس ويدخر ويقتات دون ما تنبته الأرض من الخضر. باب: زکوٰۃ صرف اس پیداوار میں واجب ہے جسے انسان خود کاشت کرتے ہیں، جو خشک کی جاتی ہے، ذخیرہ کی جاتی ہے اور بطور خوراک استعمال ہوتی ہے، نہ کہ زمین کی اگائی ہوئی ان سبزیوں میں جو ان صفات سے خالی ہوں۔
حدیث نمبر: 7484
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، ثنا قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: " لَيْسَ فِي الْخُضَرِ وَالْبُقُولِ صَدَقَةٌ ". تَابَعَهُ الْأَجْلَحُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ وَرُوِيَ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مَرْفُوعًا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرُوِيَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا فِيمَا ذَكَرَتْ أَنَّ السُّنَّةَ جَرَتْ بِهِ وَلَيْسَ فِيمَا نَبَتَتِ الْأَرْضُ مِنَ الْخُضَرِ زَكَاةٌ.حافظ ثناء اللہ
عاصم بن ضمرہ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ککڑیوں اور سبزیوں میں زکوٰۃ نہیں۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے منقول ہے کہ اس میں سنت جاری ہو چکی کہ زمین جو سبزیاں وغیرہ اگاتی ہے اس میں زکوٰۃ نہیں۔ سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ، عطاء کے حوالے سے روایت فرماتے ہیں کہ زکوٰۃ کھجور، منقی، غلے اور سبزیوں میں ہے اور تمام پھلوں میں بھی زکوٰۃ ہے۔