السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الزكاة— زکوۃ کا بیان
باب: الصدقة فيما يزرعه الآدميون وييبس ويدخر ويقتات دون ما تنبته الأرض من الخضر. باب: زکوٰۃ صرف اس پیداوار میں واجب ہے جسے انسان خود کاشت کرتے ہیں، جو خشک کی جاتی ہے، ذخیرہ کی جاتی ہے اور بطور خوراک استعمال ہوتی ہے، نہ کہ زمین کی اگائی ہوئی ان سبزیوں میں جو ان صفات سے خالی ہوں۔
حدیث نمبر: 7482
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، ثنا الْحَسَنُ، ثنا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنِ الْأَجْلَحِ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: " كَتَبَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أَهْلِ الْيَمَنِ إِنَّمَا الصَّدَقَةُ فِي الْحِنْطَةِ وَالشَّعِيرِ وَالتَّمْرِ وَالزَّبِيبِ " هَذِهِ الْأَحَادِيثُ كُلُّهَا مَرَاسِيلُ إِلَّا أَنَّهَا مِنْ طُرُقٍ مُخْتَلِفَةٍ فَبَعْضُهَا يُؤَكِّدُ بَعْضًا وَمَعَهَا رِوَايَةُ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَبِي مُوسَى وَقَدْ مَضَتْ فِي بَابِ النَّخْلِ وَمَعَهَا قَوْلُ بَعْضِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ.حافظ ثناء اللہ
حضرت اجلح رحمہ اللہ، امام شعبی رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اہل یمن کو لکھا کہ: ”زکوٰۃ صرف گندم، جو، کھجور اور منقیٰ میں ہے۔“
یہ تمام احادیث مرسل ہیں مگر مختلف طرق سے آئی ہیں، ان میں سے بعض بعض کی تائید کرتی ہیں، اور ان کے ساتھ ابو بردہ کی ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت بھی ہے جو باب النخل میں گزر چکی ہے، اور ان کے ساتھ بعض صحابہ رضی اللہ عنہم کا قول بھی ہے۔