السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الزكاة— زکوۃ کا بیان
باب: الصدقة فيما يزرعه الآدميون وييبس ويدخر ويقتات دون ما تنبته الأرض من الخضر. باب: زکوٰۃ صرف اس پیداوار میں واجب ہے جسے انسان خود کاشت کرتے ہیں، جو خشک کی جاتی ہے، ذخیرہ کی جاتی ہے اور بطور خوراک استعمال ہوتی ہے، نہ کہ زمین کی اگائی ہوئی ان سبزیوں میں جو ان صفات سے خالی ہوں۔
حدیث نمبر: 7481
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، ثنا الْحَسَنُ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَمْرٍو، عَنِ الْحَسَنِ، قَالَ: " لَمْ يَجْعَلْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّدَقَةَ إِلَّا فِي عَشَرَةٍ فَذَكَرَهُنَّ وَذَكَرَ فِيهِنَّ السُّلْتَ وَلَمْ يَذْكُرِ الذُّرَةَ ".حافظ ثناء اللہ
عمرو، حسن رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ”صرف دس چیزوں میں زکاۃ مقرر فرمائی“، پھر ان کا تذکرہ کیا اور اس میں «السُّلْتُ» کا تذکرہ کیا چاول کا نہیں۔