السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الزكاة— زکوۃ کا بیان
باب: الصدقة فيما يزرعه الآدميون وييبس ويدخر ويقتات دون ما تنبته الأرض من الخضر. باب: زکوٰۃ صرف اس پیداوار میں واجب ہے جسے انسان خود کاشت کرتے ہیں، جو خشک کی جاتی ہے، ذخیرہ کی جاتی ہے اور بطور خوراک استعمال ہوتی ہے، نہ کہ زمین کی اگائی ہوئی ان سبزیوں میں جو ان صفات سے خالی ہوں۔
حدیث نمبر: 7480
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، ثنا الْحَسَنُ، ثنا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عُبَيْدٍ، عَنِ الْحَسَنِ قَالَ: " لَمْ يَفْرِضْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا فِي عَشَرَةِ أَشْيَاءَ الْإِبِلِ وَالْبَقَرِ وَالْغَنَمِ وَالذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ وَالْحِنْطَةِ وَالشَّعِيرِ وَالتَّمْرِ وَالزَّبِيبِ ". قَالَ ابْنُ عُيَيْنَةَ أُرَاهُ قَالَ: وَالذُّرَةُ.حافظ ثناء اللہ
عمرو بن عبید، حسن رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ”صرف دس اشیاء میں زکوٰۃ مقرر فرمائی: اونٹ، گائے، بکری، سونا، چاندی، گندم، جو، کھجور اور منقیٰ۔“
ابن عیینہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: اور چاول میں بھی۔