السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الزكاة— زکوۃ کا بیان
باب: الصدقة فيما يزرعه الآدميون وييبس ويدخر ويقتات دون ما تنبته الأرض من الخضر. باب: زکوٰۃ صرف اس پیداوار میں واجب ہے جسے انسان خود کاشت کرتے ہیں، جو خشک کی جاتی ہے، ذخیرہ کی جاتی ہے اور بطور خوراک استعمال ہوتی ہے، نہ کہ زمین کی اگائی ہوئی ان سبزیوں میں جو ان صفات سے خالی ہوں۔
حدیث نمبر: 7479
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، ثنا غِيَاثٌ الْجَزَرِيُّ، عَنْ خُصَيْفٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ: " لَمْ تَكُنِ الصَّدَقَةُ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا فِي خَمْسَةِ أَشْيَاءَ الْحِنْطَةِ وَالشَّعِيرِ وَالتَّمْرِ وَالزَّبِيبِ وَالذُّرَةِ ".حافظ ثناء اللہ
خصیف، مجاہد سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے دور میں پانچ اجناس سے زکاۃ نہیں لی جاتی تھی: گندم، جو، کھجور، منقیٰ اور چاول سے۔