السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الزكاة— زکوۃ کا بیان
باب: ما ورد في الزيتون. باب: زیتون کے احکام کے متعلق جو منقول ہے۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَيَّانَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ، ثنا أَبُو عَامِرٍ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو عُمَرَ وَهُوَ الْأَوْزَاعِيُّ أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ الزُّهْرِيَّ، قَالَ: " مَضَتِ السُّنَّةُ فِي زَكَاةِ الزَّيْتُونِ أَنْ تُؤْخَذَ مِمَّنْ عَصَرَ زَيْتُونَهُ حِينَ يَعْصِرُهُ فِيمَا سَقَتِ السَّمَاءُ وَالْأَنْهَارُ أَوْ كَانَ بَعْلًا الْعُشْرُ، وَفِيمَا سُقِيَ بِرِشَاءِ النَّاضِحِ نِصْفُ الْعُشْرِ ".ابوعمرو اوزاعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابن شہاب زہری رحمہ اللہ نے بیان کیا کہ زیتون کی زکاۃ میں سنت جاری ہو چکی ہے کہ زیتون کی زکاۃ تب وصول کی جائے یا اس سے وصولی تب لی جائے جو اسے نچوڑتا ہو، یہ اس میں ہے جسے آسمان سیراب کرتا ہو یا وہ بارانی ہو اس میں عشر ہے اور جو پانی کھینچ کر سیراب کی جائیں اس میں نصف عشر ہے۔
ایک روایت ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ جابیہ آئے تو اصحابِ رسول ﷺ نے اپنا اختلاف ان کے سامنے بیان کیا کہ وہ زیتون کے عشر میں اختلاف رکھتے ہیں، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اس میں عشر ہے جب اس کے دانے پانچ وسق ہو جائیں یا اس کا تیل، انہوں نے اس کے تیل سے عشر وصول کیا۔