السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الزكاة— زکوۃ کا بیان
باب: من قال يترك لرب الحائط قدر ما يأكل هو وأهله وما يعري المساكين منها لا يخرص عليه باب: اس قول کا بیان کہ باغ کے مالک کے لیے اتنا پھل چھوڑ دیا جائے گا جتنا وہ اور اس کے اہل و عیال کھاتے ہیں اور جو وہ مساکین کو عطیہ کر دیتا ہے، اس حصے پر تخمینہ نہیں لگایا جائے گا۔
حدیث نمبر: 7450
أَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحِ بْنُ أَبِي طَاهِرٍ، أنبأ جَدِّي يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ يَحْيَى بْنِ عُمَارَةَ، عَنْ أَبِيهِ يَحْيَى بْنِ عُمَارَةَ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، يَقُولُ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ، وَأَشَارَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِكَفِّهِ بِخَمْسِ أَصَابِعَ: " لَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسِ أَوَاقٍ صَدَقَةٌ وَلَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسَةِ أَوْسُقٍ صَدَقَةٌ، وَلَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسِ ذَوْدٍ صَدَقَةٌ ". وَزَادَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ وَلَيْسَ فِي الْعَرَايَا صَدَقَةٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ ⦗٢١٠⦘ قَالَ الشَّيْخُ: مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ يَرْوِي حَدِيثَ الْأَوَاقِ وَالْأَوْسَاقِ وَالْأَذْوَادِ عَنْ يَحْيَى بْنِ عُمَارَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، فَيُحْتَمَلُ أَنْ تَكُونَ هَذِهِ الزِّيَادَةُ مَعَهَا فِي الْحَدِيثِ، وَاللهُ أَعْلَمُ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی کریم ﷺ سے سنا اور آپ نے ہاتھ کی پانچ انگلیوں کے ساتھ کہ ”پانچ اوقیہ سے کم میں زکوٰۃ نہیں اور پانچ وسق سے کم میں زکوٰۃ نہیں اور پانچ اونٹوں سے کم میں زکوٰۃ نہیں۔“ اور نبی کریم ﷺ سے یہ بھی نقل کیا کہ ”ہبہ کی ہوئی کھجوروں میں زکوٰۃ نہیں۔“
شیخ فرماتے ہیں: ممکن ہے کہ جو حدیث محمد بن یحییٰ، یحییٰ بن عمارہ سے نقل فرماتے ہیں وہ اوقیہ، وسق اور ذور کے بارے میں ہو اور اسے حدیث میں زیادتی پر محمول کیا گیا ہو۔