السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الزكاة— زکوۃ کا بیان
باب: من قال يترك لرب الحائط قدر ما يأكل هو وأهله وما يعري المساكين منها لا يخرص عليه باب: اس قول کا بیان کہ باغ کے مالک کے لیے اتنا پھل چھوڑ دیا جائے گا جتنا وہ اور اس کے اہل و عیال کھاتے ہیں اور جو وہ مساکین کو عطیہ کر دیتا ہے، اس حصے پر تخمینہ نہیں لگایا جائے گا۔
حدیث نمبر: 7449
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ، ثنا شُرَيْحُ بْنُ عَقِيلٍ، ثنا أَبُو مَرْوَانَ الْعُثْمَانِيُّ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ حَرَامِ بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَمُحَمَّدٍ ابْنَيْ جَابِرٍ عَنْ أَبِيهِمَا، فَذَكَرَهُ مَرْفُوعًا وَقَدْ رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَدِيثٍ مُرْسَلٍ لَيْسَ فِي الْعَرَايَا صَدَقَةٌ.حافظ ثناء اللہ
حرام بن عثمان، جابر رضی اللہ عنہ کے بیٹوں عبد الرحمن اور محمد سے، اور وہ اپنے والد سے یہی حدیث مرفوعاً نقل کرتے ہیں۔
اور نبی کریم ﷺ سے ایک مرسل حدیث میں مروی ہے کہ: ”عرایا (ہبہ کی ہوئی کھجوروں) میں زکوٰۃ نہیں۔“