السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الزكاة— زکوۃ کا بیان
باب: لا صدقة في الخيل باب: اس بات کا بیان کہ گھوڑوں میں کوئی زکوٰۃ واجب نہیں۔
حدیث نمبر: 7414
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى الصَّيْدَلَانِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ حَارِثَةَ بْنِ مُضَرِّبٍ قَالَ: جَاءَ نَاسٌ مِنْ أَهْلِ الشَّامِ إِلَى عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقَالُوا: إِنَّا قَدْ أَصَبْنَا أَمْوَالًا خَيْلًا وَرَقِيقًا نُحِبُّ أَنْ يَكُونَ لَنَا فِيهِ زَكَاةٌ وَطَهُوَرٌ، قَالَ: " مَا فَعَلَهُ صَاحِبَايَ قَبْلي فَافْعَلْهُ " فَاسْتَشَارَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي جَمَاعَةٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ، فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: هُوَ حَسَنٌ إِنْ لَمْ يَكُنْ جِزْيَةٌ يُؤْخَذُونَ بِهَا رَاتِبَةً.حافظ ثناء اللہ
حارثہ بن مضرب فرماتے ہیں کہ شام کے لوگ عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور کہا: ”ہم نے بہت سا مال، گھوڑے اور غلام حاصل کیے ہیں، ہم چاہتے ہیں کہ ان میں زکوٰۃ ہو اور پاکیزگی ہو“ تو انہوں نے کہا: ”یہ میرے دونوں صاحبوں (محمد ﷺ اور صدیق اکبر رضی اللہ عنہ) نے نہیں کیا تو میں کیسے کروں!“ پھر عمر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کی ایک جماعت میں علی رضی اللہ عنہ سے مشورہ کیا تو علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”وہ اچھا ہے اگرچہ وہ جزیہ (ٹیکس) نہیں، مگر وہ اس سے رتبہ حاصل کرسکتے ہیں۔“