السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الزكاة— زکوۃ کا بیان
باب: صدقة الخلطاء باب: شرکاء (اکٹھے مال رکھنے والوں) کی زکوٰۃ کا بیان
حدیث نمبر: 7331
وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ الْأَنْصَارِيُّ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَةَ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْبُوشَنْجِيُّ، حَدَّثَنِي النُّفَيْلِيُّ أَبُو جَعْفَرٍ، ثنا زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، ثنا أَبُو إِسْحَاقَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ، وَعَنِ الْحَارِثِ الْأَعْوَرِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ زُهَيْرٌ أَحْسِبُهُ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ فِي زَكَاةِ الْوَرِقِ وَالْغَنَمِ وَالْإِبِلِ إِلَى أَنْ قَالَ: " فَإِذَا ⦗١٧٨⦘ زَادَتْ وَاحِدَةً يَعْنِي عَلَى التِّسْعِينَ فَفِيهَا حِقَّتَانِ طَرُوقَتَا الْجَمَلِ إِلَى عِشْرِينَ وَمِائَةٍ، فَإِذَا كَانَتِ الْإِبِلُ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ فَفِي كُلِّ خَمْسِينَ حِقَّةٌ وَفِي كُلِّ أَرْبَعِينَ كَذَا وَلَا يُفَرَّقُ بَيْنَ مُجْتَمِعٍ وَلَا يُجْمَعُ بَيْنَ مُتَفَرِّقٍ خَشْيَةَ الصَّدَقَةِ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، زہیر کہتے ہیں: میرا خیال ہے کہ وہ نبی کریم ﷺ سے نقل فرماتے ہیں، اور انھوں نے حدیث بیان کی اور چاندی، بکری اور اونٹوں کی زکوۃ کا تذکرہ کیا اور کہا کہ ”اگر ایک بھی نوے سے زیادہ ہو جائے تو اس میں دو حقے ہیں سانڈ کو قبول کرنے والے ایک سو بیس تک۔ اگر اونٹ اس سے زیادہ ہو جائیں تو ہر پچاس میں حقہ اور ہر چالیس میں بنت لبون ہے اور یکجا چرنے والوں کو جدا جدا نہ کیا جائے اور جدا جدا چرنے والوں کو یکجا نہ کیا جائے زکوۃ کے ڈر سے۔“