السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الزكاة— زکوۃ کا بیان
باب: صدقة الخلطاء باب: شرکاء (اکٹھے مال رکھنے والوں) کی زکوٰۃ کا بیان
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَلِيٍّ الرُّذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، أنبأ أَبُو دَاوُدَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، ثنا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ حُسَيْنٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: كَتَبَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كِتَابَ الصَّدَقَةِ فَلَمْ يُخْرِجْهُ إِلَى عُمَّالِهِ حَتَّى قُبِضَ، فَقَرَنَهُ بِسَيْفِهِ فَعَمِلَ بِهِ أَبُو بَكْرٍ حَتَّى قُبِضَ، ثُمَّ عَمِلَ بِهِ عُمَرُ حَتَّى قُبِضَ فَكَانَ فِيهِ. فَذَكَرَ الْحَدِيثَ فِي صَدَقَةِ الْإِبِلِ وَصَدَقَةِ الْغَنَمِ وَقَالَ: " وَلَا يُفَرَّقُ بَيْنَ مُجْتَمِعٍ وَلَا يُجْمَعُ بَيْنَ مُتَفَرِّقٍ مَخَافَةَ الصَّدَقَةِ وَمَا كَانَ مِنْ خَلِيطَيْنِ فَإِنَّهُمَا يَتَرَاجَعَانِ بِالسَّوِيَّةِ " وَرُوِّينَاهُ فِي حَدِيثِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ..امام زہری سالم رحمہ اللہ سے اور وہ اپنے والد (سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما) سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے زکوٰۃ کا نصاب تحریر کیا اور اسے ابھی اپنے عمال کی طرف نہیں نکالا تھا کہ آپ ﷺ کی وفات ہو گئی، تو اس تحریر کو آپ ﷺ کی تلوار کے ساتھ باندھ دیا گیا۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اسے نافذ کیا یہاں تک کہ وہ فوت ہو گئے، پھر اسی پر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عمل کیا، یہاں تک کہ وہ بھی فوت ہو گئے۔ انہوں نے اونٹوں کی زکوٰۃ کی حدیث بیان کی اور بکریوں کی زکوٰۃ کی بھی اور فرمایا: ”اکٹھی چرنے والیوں کو یکجا نہ کیا جائے زکوٰۃ کے خوف سے اور جو شراکت دار ہیں وہ آپس میں برابری کریں گے۔“