السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الزكاة— زکوۃ کا بیان
باب: صدقة الخلطاء باب: شرکاء (اکٹھے مال رکھنے والوں) کی زکوٰۃ کا بیان
حدیث نمبر: 7332
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ الْبَزَّازُ، ثنا شَرِيكٌ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي لَيْلَى الْكِنْدِيِّ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ، قَالَ: أَتَانَا مُصَدِّقُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخَذْتُ بِيَدِهِ وَقَرَأْتُ فِي عَهْدِهِ قَالَ: " وَلَا يُجْمَعُ بَيْنَ مُتَفَرِّقٍ وَلَا يُفَرَّقُ بَيْنَ مُجْتَمِعٍ خَشْيَةَ الصَّدَقَةِ ".حافظ ثناء اللہ
سوید بن غفلہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ہمارے پاس پیارے پیغمبر ﷺ کا عامل آیا، میں نے اس کا ہاتھ پکڑا اور اس کی تحریر میں پڑھا کہ: ”جدا جدا چرنے والیوں کو یکجا نہ کیا جائے اور نہ ہی یکجا چرنے والیوں کو جدا جدا کیا جائے زکاۃ کے خوف سے۔“