السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الزكاة— زکوۃ کا بیان
باب: الأمهات تموت وتبقى السخال نصابا فيؤخذ منها باب: مادہ جانور مر جائیں اور بچے نصاب کے برابر باقی رہ جائیں تو زکوٰۃ ان بچوں میں سے لی جائے گی
حدیث نمبر: 7325
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا اللَّيْثُ، عَنْ عَقِيلٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَقَالَ: " وَاللهِ لَوْ مَنَعُونِي عِقَالًا " قَالَ أَبُو دَاوُدَ: وَرَوَاهُ ابْنُ وَهْبٍ عَنْ يُونُسَ عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ: عِقَالًا، وَرَوَاهُ عَنْبَسَةُ عَنْ يُونُسَ عَنِ الزُّهْرِيِّ فِي هَذَا الْحَدِيثِ قَالَ: عَنَاقًا. قَالَ أَبُو دَاوُدَ: وَقَالَ شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ، وَمَعْمَرٌ وَالزُّبَيْدِيُّ عَنِ الزُّهْرِيِّ فِي هَذَا الْحَدِيثِ قَالَ: لَوْ مَنَعُونِي عَنَاقًا. وَرَوَاهُ رَبَاحُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ مَعْمَرٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ عِقَالًا. قَالَ الشَّيْخُ: وَفِي رِوَايَةٍ أُخْرَى عَنْ رَبَاحٍ عَنَاقًا. قَالَ أَبُو دَاوُدَ: قَالَ أَبُو عُبَيْدَةَ مَعْمَرُ بْنُ الْمُثَنَّى الْعِقَالُ صَدَقَةُ سَنَةٍ وَالْعِقَالَانِ صَدَقَةُ سَنَتَيْنِ قَالَ الشَّيْخُ: وَالْعَنَاقُ لَا يُتَصَوَّرُ أَخْذُهَا إِلَّا فِيمَا ذَكَرْنَا وَاللهُ أَعْلَمُ.حافظ ثناء اللہ
عقیل فرماتے ہیں کہ زہری رحمہ اللہ نے اس حدیث کو بیان کیا اور فرمایا کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ: اللہ کی قسم! اگر انہوں نے بکری کا ایک بچہ بھی روکا، ایک حدیث میں ہے کہ ایک رسی بھی روکی تو میں جنگ کروں گا۔
ابو داؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابو عبیدہ معمر بن مثنیٰ نے کہا کہ «عِقَالٌ» ”ایک سال کی زکوٰۃ“ اور «عِقَالَانِ» ”دو سال کی زکوٰۃ“ ہو گی۔ شیخ فرماتے ہیں کہ بچے کے لینے کا تصور نہیں کیا جا سکتا مگر اس صورت میں ہے جو ہم نے بیان کی۔