السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الزكاة— زکوۃ کا بیان
باب: كيف فرض صدقة البقر باب: گائیوں کی زکوٰۃ کیسے فرض کی گئی ہے اس کا بیان
حدیث نمبر: 7298
وَأَمَّا الْأَثَرُ الَّذِي أَخْبَرَنَاهُ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا أَبُو الْحُسَيْنِ الْفَسَوِيُّ، ثنا أَبُو عَلِيٍّ اللُّؤْلُئِيُّ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ ثَوْرٍ عَنْ مَعْمَرٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، " فِي كُلِّ خَمْسٍ مِنَ الْبَقَرِ شَاةٌ وَفِي عَشْرٍ شَاتَانِ وَفِي خَمْسَ عَشْرَةَ ثَلَاثُ شِيَاهٍ وَفِي عِشْرِينَ أَرْبَعُ شِيَاهٍ "، قَالَ الزُّهْرِيُّ: فَإِذَا كَانَتْ خَمْسًا وَعِشْرِينَ فَفِيهَا بَقَرَةٌ إِلَى خَمْسٍ وَسَبْعِينَ، فَإِذَا زَادَتْ عَلَى خَمْسٍ وَسَبْعِينَ فَفِيهَا بَقَرَتَانِ إِلَى عِشْرِينَ وَمِائَةٍ فَإِذَا زَادَتْ عَلَى عِشْرِينَ وَمِائَةٍ فَفِي كُلِّ أَرْبَعِينَ بَقَرَةً بَقَرَةٌ، قَالَ مَعْمَرٌ: قَالَ الزُّهْرِيُّ: وَبَلَغَنَا أَنَّ قَوْلَهُمْ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فِي كُلِّ ثَلَاثِينَ بَقَرَةً تَبِيعٌ وَفِي كُلِّ أَرْبَعِينَ بَقَرَةً بَقَرَةٌ "، إِنَّ ذَلِكَ كَانَ تَخْفِيفًا لِأَهْلِ الْيَمَنِ ثُمَّ كَانَ هَذَا بَعْدَ ذَلِكَ فَهَذَا حَدِيثٌ مَوْقُوفٌ وَمُنْقَطِعٌ وَرُوِيَ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنِ الزُّهْرِيِّ مُنْقَطِعًا وَالْمُنْقَطِعُ لَا تَثْبُتُ بِهِ حُجَّةٌ وَمَا قَبْلَهُ أَكْثَرُ وَأَشْهَرُ وَاللهُ أَعْلَمُ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ پانچ گائے میں ایک بکری ہے اور دس گائے میں دو بکریاں اور پندرہ میں تین اور بیس گائے میں چار بکریاں ہیں۔
امام زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جب پچیس ہو جائیں گی تو پچھتر تک ایک گائے ہے، جب پچھتر سے زیادہ ہو جائیں تو اس میں دو گائے ہوں گی ایک سو بیس تک۔ جب ایک سو بیس سے زیادہ ہو جائیں تو ہر چالیس میں ایک گائے ہے۔ یہ تخفیف اہل یمن کے لیے تھی پھر اس کے بعد یہ ہوا تو یہ حدیث موقوف ہے اور منقطع ہے اور دوسری سند سے زہری سے بھی منقطع روایت کی گئی ہے اور منقطع سے حجت نہیں لی جاتی اور اس سے پہلی روایات زیادہ مشہور ہیں۔