السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الزكاة— زکوۃ کا بیان
باب: كيف فرض صدقة البقر باب: گائیوں کی زکوٰۃ کیسے فرض کی گئی ہے اس کا بیان
حدیث نمبر: 7297
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الَحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِيُّ بِمَرْوٍ ثنا سَعِيدُ بْنُ مَسْعُودٍ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، أنبأ سُفْيَانُ، عَنْ دَاوُدَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ يَرْفَعُهُ، وَابْنُ أَبِي عَيَّاشٍ عَنْ أَنَسٍ يَرْفَعُهُ قَالَ: " فِي أَرْبَعِينَ مِنَ الْبَقَرِ مُسِنَّةٌ وَفِي ثَلَاثِينَ تَبِيعٌ أَوْ تَبِيعَةٌ ".حافظ ثناء اللہ
داؤد، شعبی رحمہ اللہ سے اور ابو عیاش، انس رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً نقل فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”چالیس گائے میں ایک مسنہ ہے اور تیس گائے میں ایک بچھڑا ہے یا بچھیا ہے۔“