❮
❯
حدیث نمبر: 7257
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، ثنا أَبُو الْمُثَنَّى، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ ابْنِ أَسْمَاءَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ: هَذِهِ نُسْخَةُ كِتَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّتِي كَتَبَ فِي الصَّدَقَةِ وَهُوَ عِنْدَ آلِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: أَقْرَأَنِيهَا سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ فَوَعَيْتُهَا عَلَى وَجْهِهَا وَهِيَ الَّتِي انْتَسَخَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ مِنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ وَسَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللهِ حِينَ أُمِّرَ عَلَى الْمَدِينَةِ فَأَمَرَ عُمَّالَهُ بِالْعَمَلِ بِهَا وَكَتَبَ بِهَا إِلَى الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ فَأَمَرَ الْوَلِيدُ عُمَّالَهُ بِالْعَمَلِ بِهَا ثُمَّ لَمْ يَزَلِ الْخُلَفَاءُ يَأْمُرُونَ بِذَلِكَ بَعْدَهُ ثُمَّ أَمَرَ بِهَا هِشَامٌ فَنَسَخَهَا إِلَى كُلِّ عَامَلٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ، وَأَمَرَهُمْ بِالْعَمَلِ بِمَا فِيهَا وَلَا يَتَعَدُّونَهَا، وَهَذَا كِتَابٌ تَفْسِيرُهُ: " لَا يُؤْخَذُ فِي شَيْءٍ مِنَ الْإِبِلِ الصَّدَقَةُ حَتَّى تَبْلُغَ خَمْسَ ذَوْدٍ، فَإِذَا بَلَغَتْ خَمْسًا فَفِيهَا شَاةٌ حَتَّى تَبْلُغَ عَشْرًا، فَإِذَا بَلَغَتْ عَشْرًا فَفِيهَا شَاتَانِ حَتَّى تَبْلُغَ خَمْسَ عَشْرَةَ، فَإِذَا بَلَغَتْ خَمْسَ عَشْرَةَ فَفِيهَا ثَلَاثُ شِيَاهٍ حَتَّى تَبْلُغَ عِشْرِينَ فَإِذَا بَلَغَتْ عِشْرِينَ فَفِيهَا أَرْبَعُ شِيَاهٍ حَتَّى تَبْلُغَ خَمْسًا وَعِشْرِينَ فَإِذَا بَلَغَتْ خَمْسًا وَعِشْرِينَ أُفْرِضَتْ فَكَانَ فِيهَا فَرِيضَةُ بِنْتِ مَخَاضٍ، فَإِنْ لَمْ تُوجَدْ بِنْتُ مَخَاضٍ فَابْنُ لَبُونٍ ذَكَرٌ حَتَّى تَبْلُغَ خَمْسًا وَثَلَاثِينَ فَإِذَا بَلَغَتْ سِتًّا وَثَلَاثِينَ فَفِيهَا بِنْتُ لَبُونٍ حَتَّى تَبْلُغَ خَمْسًا وَأَرْبَعِينَ، فَإِذَا كَانَتْ سِتًّا وَأَرْبَعِينَ فَفِيهَا حِقَّةٌ طَرُوقَةُ الْجَمَلِ حَتَّى تَبْلُغَ سِتِّينَ، فَإِذَا كَانَتْ إِحْدَى وَسِتِّينَ فَفِيهَا جَذَعَةٌ حَتَّى تَبْلُغَ خَمْسًا وَسَبْعِينَ، فَإِذَا بَلَغَتْ سِتًّا وَسَبْعِينَ فَفِيهَا بِنْتَا لَبُونٍ حَتَّى تَبْلُغَ تِسْعِينَ، فَإِذَا كَانَتْ إِحْدَى وَتِسْعِينَ فَفِيهَا حِقَّتَانِ طَرُوقَتَا الْجَمَلِ حَتَّى تَبْلُغَ عِشْرِينَ وَمِائَةً، فَإِذَا كَانَتْ إِحْدَى وَعِشْرِينَ وَمِائَةً فَفِيهَا ثَلَاثُ بَنَاتِ لَبُونٍ حَتَّى تَبْلُغَ تِسْعًا وَعِشْرِينَ وَمِائَةً، فَإِذَا كَانَتْ ثَلَاثِينَ وَمِائَةً فَفِيهَا حِقَّةٌ وَبِنْتَا لَبُونٍ حَتَّى تَبْلُغَ تِسْعًا وَثَلَاثِينَ وَمِائَةً، فَإِذَا كَانَتْ أَرْبَعِينَ وَمِائَةً فَفِيهَا حِقَّتَانِ وَبِنْتُ لَبُونٍ حَتَّى تَبْلُغَ تِسْعًا وَأَرْبَعِينَ وَمِائَةً، فَإِذَا كَانَتْ خَمْسِينَ وَمِائَةً فَفِيهَا ثَلَاثُ حِقَاقٍ حَتَّى تَبْلُغَ تِسْعًا وَخَمْسِينَ وَمِائَةً، فَإِذَا بَلَغَتْ سِتِّينَ وَمِائَةً فَفِيهَا أَرْبَعُ بَنَاتِ لَبُونٍ حَتَّى تَبْلُغَ تِسْعًا وَسِتِّينَ وَمِائَةً فَإِذَا كَانَتْ سَبْعِينَ وَمِائَةً فَفِيهَا حِقَّةٌ وَثَلَاثُ بَنَاتِ لَبُونٍ حَتَّى تَبْلُغَ تِسْعًا وَسَبْعِينَ وَمِائَةً، فَإِذَا كَانَتْ ثَمَانِينَ وَمِائَةً فَفِيهَا حِقَّتَانِ وَبِنْتَا لَبُونٍ حَتَّى تَبْلُغَ تِسْعًا وَثَمَانِينَ وَمِائَةً، فَإِذَا كَانَتْ تِسْعِينَ وَمِائَةً فَفِيهَا ثَلَاثُ حِقَاقٍ وَبِنْتُ لَبُونٍ حَتَّى تَبْلُغَ تِسْعًا وَتِسْعِينَ وَمِائَةً، فَإِذَا كَانَتْ مِائَتَيْنِ فَفِيهَا أَرْبَعُ حِقَاقٍ أَوْ خَمْسُ بَنَاتِ لَبُونٍ أِيَّ السِّنِينَ وُجِدَتْ فِيهَا أُخِذَتْ عَلَى عِدَّةِ مَا كَتَبْنَا فِي هَذَا الْكِتَابِ، ثُمَّ كُلُّ شَيْءٍ مِنَ الْإِبِلِ عَلَى ذَلِكَ يُؤْخَذُ عَلَى نَحْوِ مَا كَتَبْنَا فِي هَذَا الْكِتَابِ ⦗١٥٤⦘ وَلَا يُؤْخَذُ مِنَ الْغَنَمِ صَدَقَةٌ حَتَّى تَبْلُغَ أَرْبَعِينَ شَاةً، فَإِذَا بَلَغَتْ أَرْبَعِينَ شَاةً فَفِيهَا شَاةٌ حَتَّى تَبْلُغَ عِشْرِينَ وَمِائَةً، فَإِذَا كَانَتْ إِحْدَى وَعِشْرِينَ وَمِائَةً فَفِيهَا شَاتَانِ حَتَّى تَبْلُغَ مِائَتَيْنِ، فَإِذَا كَانَتْ شَاةً وَمِائَتَيْنِ فَفِيهَا ثَلَاثُ شِيَاهٍ حَتَّى تَبْلُغَ ثَلَاثَمِائَةٍ، فَإِذَا زَادَتْ عَلَى ثَلَاثِمِائَةِ شَاةٍ فَلَيْسَ فِيهَا إِلَّا ثَلَاثُ شِيَاهٍ حَتَّى تَبْلُغَ أَرْبَعَمِائَةِ شَاةٍ، فَإِذَا بَلَغَتْ أَرْبَعَمِائَةِ شَاةٍ فَفِيهَا أَرْبَعُ شِيَاهٍ حَتَّى تَبْلُغَ خَمْسَمِائَةً، فَإِذَا بَلَغَتْ خَمْسَمِائَةِ شَاةٍ فَفِيهَا خَمْسُ شِيَاهٍ حَتَّى تَبْلُغَ سِتَّمِائَةِ شَاةٍ، فَإِذَا بَلَغَتْ سِتَّمِائَةِ شَاةٍ فَفِيهَا سِتُّ شِيَاهٍ، فَإِذَا بَلَغَتْ سَبْعَمِائَةِ شَاةٍ فَفِيهَا سَبْعُ شِيَاهٍ حَتَّى تَبْلُغَ ثَمَانَ مِائَةِ شَاةٍ، فَإِذَا بَلَغَتْ ثَمَانَ مِائَةِ شَاةٍ فَفِيهَا ثَمَانُ شِيَاهٍ حَتَّى تَبْلُغَ تِسْعَمِائَةِ شَاةٍ، فَإِذَا بَلَغَتْ تِسْعَمِائَةِ شَاةٍ فَفِيهَا تِسْعُ شِيَاهٍ حَتَّى تَبْلُغَ أَلْفَ شَاةٍ فَإِذَا بَلَغَتْ أَلْفَ شَاةٍ فَفِيهَا عَشْرُ شِيَاهٍ ثُمَّ فِي كُلِّ مَا زَادَتْ مِائَةَ شَاةٍ شَاةٌ ".
حافظ ثناء اللہ

ابن شہاب رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ رسول اللہ ﷺ کی اس تحریر کا نسخہ ہے جو آپ ﷺ نے زکوۃ کے بارے میں لکھی تھی اور یہ آلِ عمر بن خطاب کے پاس ہے۔ ابن شہاب فرماتے ہیں: مجھے سالم بن عبداللہ بن عمر نے یہ پڑھائی تو میں نے اسے ٹھیک ٹھیک یاد کر لیا اور یہ وہی ہے جسے عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے عبداللہ بن عبداللہ بن عمر اور سالم بن عبداللہ سے نقل کروایا جب انہیں مدینہ کا امیر بنایا گیا، پھر انہوں نے اپنے عمال کو اس پر عمل کرنے کا حکم دیا اور اسے ولید بن عبدالملک کی طرف لکھ بھیجا تو ولید نے اپنے عمال کو اس پر عمل کرنے کا حکم دیا، پھر اس کے بعد خلفاء اسی کا حکم دیتے رہے، پھر ہشام نے اس کا حکم دیا اور اسے مسلمانوں کے ہر عامل کی طرف نقل کروا کر بھیجا اور انہیں حکم دیا کہ اس میں جو کچھ ہے اس پر عمل کریں اور اس سے تجاوز نہ کریں۔ یہ وہ تحریر ہے جس کی تفصیل یہ ہے: ”جب تک اونٹ پانچ کی تعداد کو نہ پہنچ جائیں ان میں زکوۃ نہیں لی جائے گی۔ جب وہ پانچ ہو جائیں تو ان میں ایک بکری ہے دس تک۔ جب دس ہو جائیں تو ان میں دو بکریاں ہیں پندرہ تک۔ جب پندرہ ہو جائیں تو ان میں تین بکریاں ہیں بیس تک اور جب بیس ہو جائیں تو ان میں چار بکریاں ہیں پچیس تک۔ جب پچیس ہو جائیں تو ان میں فریضہ ایک بنت مخاض ہے، اگر بنت مخاض نہ ملے تو ابن لبون مذکر ہے پینتیس تک۔ جب ان کی تعداد چھتیس ہو جائے تو اس میں بنت لبون ہے پینتالیس تک اور جب چھیالیس ہو جائیں تو اس میں ساٹھ تک حقہ ہے (سانڈ قبول کرنے والی) اور جب اکسٹھ ہو جائیں تو پچھتر تک جذعہ ہے اور جب چھہتر ہو جائیں تو نوے تک دو بنت لبون ہیں اور جب اکانوے ہو جائیں تو ایک سو بیس تک دو حقے ہیں (سانڈ قبول کرنے والے)۔ جب ایک سو اکیس ہو جائیں تو اس میں تین بنت لبون ہیں ایک سو انتیس تک۔ جب ایک سو تیس ہو جائیں تو اس میں ایک سو انتالیس تک ایک حقہ اور دو بنت لبون ہیں۔ جب ایک سو چالیس ہو جائیں تو ایک سو انچاس تک دو حقے اور ایک بنت لبون ہے۔ جب ایک سو پچاس ہو جائیں تو ایک سو انسٹھ تک تین حقے ہیں اور جب ایک سو ساٹھ ہو جائیں تو اس میں چار بنت لبون ہیں ایک سو انہتر تک اور جب ایک سو ستر ہو جائیں تو اس میں ایک حقہ اور تین بنت لبون ہیں ایک سو اناسی تک اور جب ایک سو اسی ہو جائیں تو ان میں دو حقے اور دو بنت لبون ہیں ایک سو نواسی تک۔ جب وہ ایک سو نوے ہو جائیں تو اس میں تین حقے اور ایک بنت لبون ہے ایک سو ننانوے تک اور جب وہ دو سو ہو جائیں تو اس میں چار حقے یا پانچ بنت لبون ہیں، ان دونوں عمروں میں سے جو بھی ان میں پائی جائے وہی لی جائے گی، اسی تعداد کے مطابق جو ہم نے اس تحریر میں لکھ دی ہے۔ پھر اس سے زائد تمام اونٹوں کی زکوۃ اسی طرح لی جائے گی جیسا کہ ہم نے اس تحریر میں لکھا ہے اور بکریوں کی زکوۃ وصول نہیں کی جائے گی جب تک وہ چالیس نہ ہو جائیں۔ جب چالیس ہو جائیں تو اس میں ایک بکری ہے ایک سو بیس تک۔ جب ایک سو اکیس ہو جائیں تو اس میں دو بکریاں ہیں دو سو تک اور جب دو سو ایک ہو جائیں تو تین سو تک تین بکریاں ہیں۔ جب تین سو سے زائد ہو جائیں تو چار سو تک ان میں صرف تین بکریاں ہیں۔ جب چار سو ہو جائیں تو پانچ سو تک چار بکریاں ہیں۔ جب پانچ سو ہو جائیں تو اس میں پانچ بکریاں ہیں چھ سو تک اور جب چھ سو ہو جائیں تو اس میں چھ بکریاں ہیں اور جب سات سو ہو جائیں تو اس میں سات بکریاں ہیں آٹھ سو تک اور جب آٹھ سو ہو جائیں تو نو سو تک آٹھ بکریاں ہیں اور جب نو سو ہو جائیں تو ہزار تک نو بکریاں ہیں اور جب ہزار ہو جائیں تو اس میں دس بکریاں ہیں، پھر ہر زائد سو میں ایک بکری ہے۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الزكاة / حدیث: 7257
درجۂ حدیث محدثین: صحيح لغيرهٖ
تخریج حدیث «صحيح لغيرهٖ۔ ابو داؤد»