السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الزكاة— زکوۃ کا بیان
باب: كيف فرض الصدقة باب: زکوٰۃ کیسے فرض کی گئی ہے اس کا بیان
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ قَتَادَةَ وَأَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْمَشَّاطُ قَالَا: أنبأ أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ بْنِ يَحْيَى بْنِ ضُرَيْسٍ، أنبأ إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفَرْوِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ، عَنِ الْمُثَنَّى بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَبِيهِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَ كِتَابٍ وُجِدَ فِي قَائِمِ سَيْفِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي الصَّدَقَةِ حَتَّى انْتَهَى إِلَى الرِّقَةِ وَفِيهِ " بَيْنَ الْفَرِيضَتَيْنِ عِشْرُونَ دِرْهَمًا أَوْ شَاتَانِ قِيمَتُهُمَا عَشَرَةُ دَرَاهِمَ عَشَرَةُ دَرَاهِمَ " هَذَا حَدِيثُ أَبِي نَصْرٍ وَفِي رِوَايَةِ الْمَشَّاطِ عَنِ الْمُثَنَّى بْنِ أَنَسٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ وَهَذَا أَشْبَهُ فَإِنَّهُ الْمُثَنَّى بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَنَسٍ نُسِبَ إِلَى جَدِّهِ، وَهَذِهِ الرِّوَايَةُ هِيَ الَّتِي ذَكَرَهَا الشَّافِعِيُّ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، وَقَدْ رُوِّينَا الْحَدِيثَ مِنْ حَدِيثِ ثُمَامَةَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ أَنَسٍ مِنْ أَوْجُهٍ صَحِيحَةٍ. وَرُوِّينَاهُ عَنْ سَالِمٍ، وَنَافِعٍ مَوْصُولًا وَمُرْسَلًا وَمِنْ حَدِيثِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ مَوْصُولًا، وَجَمِيعُ ذَلِكَ يَشُدُّ بَعْضُهُ بَعْضًا وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ.سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ کی اسی تحریر کی مانند جو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی تلوار کے قیام میں زکاۃ کے بارے میں پائی گئی، اس میں چاندی کی زکاۃ تک تھا اور اس میں ہے کہ ”دو فریضوں میں بیس درہم یا دو بکریاں ہیں جو دس دس درہم کی ہوں۔“
مشاط کی روایت میں (سند یوں ہے:) مثنیٰ بن انس، اپنے والد سے، وہ انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے، اور یہی زیادہ درست معلوم ہوتا ہے، کیونکہ یہ مثنیٰ بن عبداللہ بن انس ہیں جنہیں ان کے دادا کی طرف منسوب کیا گیا ہے۔ ہم نے یہ حدیث ثمامہ بن عبداللہ بن انس عن انس کی سند سے کئی صحیح طرق سے روایت کی ہے، اور سالم اور نافع سے متصل اور مرسل دونوں طرح، اور عمرو بن حزم کی حدیث سے متصل روایت کی ہے، اور یہ سب ایک دوسرے کو تقویت دیتی ہیں۔ وباللہ التوفیق۔