السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الزكاة— زکوۃ کا بیان
باب: إبانة قوله وفي كل أربعين ابنة لبون وفي كل خمسين حقة باب: آپ ﷺ کے فرمان ”اور ہر چالیس اونٹوں میں ایک بنت لبون (دو سالہ اونٹنی) اور ہر پچاس میں ایک حقہ (تین سالہ اونٹنی) ہے“ کی وضاحت کا بیان
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ، بِبَغْدَادَ أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا الْحَارِثُ بْنُ أَبِي أُسَامَةَ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ حَبِيبُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ، ثنا عَمْرُو بْنُ هَرِمٍ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَنْصَارِيُّ يَعْنِي أَبَا الرِّجَالِ، قَالَ: " لَمَّا اسْتُخْلِفَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ أَرْسَلَ إِلَى الْمَدِينَةِ يَلْتَمِسُ كِتَابَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الصَّدَقَاتِ وَكِتَابَ عُمَرَ فَوَجَدَ عِنْدَ آلِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ كِتَابَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ فِي الصَّدَقَاتِ وَوَجَدَ عِنْدَ آلِ عُمَرَ كِتَابَهُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي الصَّدَقَاتِ مِثْلَ كِتَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنُسِخَا لَهُ فَحَدَّثَنِي عَمْرٌو أَنَّهُ طَلَبَ إِلَى مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنْ يَنْسَخَ لَهُ مَا فِي ذَيْنِكَ الْكِتَابَيْنِ فَنُسِخَ لَهُ فَذَكَرَ صَدَقَةَ الْإِبِلِ مِنْ خَمْسٍ إِلَى مِائَتَيْنِ كَمَا مَضَى فِي الْحَدِيثِ قَبْلَهُ وَزَادَ فَقَالَ: " فَإِذَا بَلَغَتْ مِائَتَيْنِ وَعَشْرًا فَفِيهَا أَرْبَعُ بَنَاتِ لَبُونٍ وَحِقَّةٌ إِلَى أَنْ تَبْلُغَ عِشْرِينَ وَمِائَتَيْنِ فَإِذَا بَلَغَتْ عِشْرِينَ وَمِائَتَيْنِ فَفِيهَا ثَلَاثُ بَنَاتِ لَبُونٍ وَحِقَّتَانِ إِلَى أَنْ تَبْلُغَ ثَلَاثِينَ وَمِائَتَيْنِ، فَإِذَا بَلَغَتْ ثَلَاثِينَ وَمِائَتَيْنِ فَفِيهَا ثَلَاثُ حِقَاقٍ وَبِنْتَا لَبُونٍ "، ثُمَّ ذَكَرَ الْحَدِيثَ فِي ذِكْرِ فَرِيضَتِهَا كُلَّمَا زَادَتْ عَشْرًا حَتَّى تَبْلُغَ ثَلَاثَمِائَةٍ، قَالَ: " فَإِذَا بَلَغَتْ ثَلَاثَمِائَةٍ فَفِيهَا سِتُّ حِقَاقٍ أَوْ خَمْسُ بَنَاتِ ⦗١٥٥⦘ لَبُونٍ وَحِقَّتَانِ فَمِنْ أِيِّ هَذَيْنِ السِّنِينَ شَاءَ أَنْ يَأْخُذَ الْمُصَدِّقُ أَخَذَ، فَإِذَا زَادَ الْإِبِلُ عَلَى ثَلَاثِمِائَةٍ فَفِيهَا فِي كُلِّ خَمْسِينَ حِقَّةٌ وَفِي كُلِّ أَرْبَعِينَ ابْنَةُ لَبُونٍ وَلَا يَأْخُذُ مِمَّا دُونَ الْعَشْرِ شَيْئًا ".عمرو بن حزم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھے ابورجال محمد بن عبدالرحمن رحمہ اللہ نے بیان فرمایا کہ عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ خلیفہ بنے تو انہوں نے زکاۃ کے بارے میں رسول اللہ ﷺ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے خط کے مشابہ خط مدینہ کی طرف ارسال فرمایا، پھر آلِ عمرو بن حزم کے ہاں سے رسول اللہ ﷺ کا ارسال کردہ خط ملا اور آلِ عمر (رضی اللہ عنہم) کے ہاں سے بھی۔ ان دونوں کو ان کے لیے لکھا گیا، پھر انہوں نے محمد بن عبدالرحمن کو بلایا تو انہوں نے ان کے لیے خط لکھا۔ اس میں یہ ہے کہ ”اونٹوں کی زکاۃ پانچ سے دو سو تک ہے جیسا کہ پہلی حدیث میں گزر چکا ہے۔“ اور یہ اضافی الفاظ بیان کیے: ”جب دو سو دس تک پہنچ جائیں تو ان میں چار بنت لبون اور ایک حقہ ہے دو سو بیس تک، اور جب وہ دو سو بیس ہو جائیں تو دو سو تیس تک تین بنت لبون اور دو حقے ہیں۔ جب دو سو تیس ہو جائیں تو دو سو چالیس تک تین حقے اور دو بنت لبون ہیں۔“ پھر انہوں نے پوری حدیث بیان کی اور فریضہ زکاۃ کا بھی تذکرہ کیا۔ ”جب اس سے زیادہ ہو جائیں اور تین سو تک پہنچ جائیں تو ان میں چھ حقے یا پانچ بنت لبون ہیں اور دو حقے، اور ان دونوں میں سے جس عمر کے چاہے مصدق لے لے، اور جب اونٹ تین سو سے زائد ہو جائیں تو پھر ہر پچاس میں حقہ اور ہر چالیس میں بنت لبون ہے، اور دس سے کم میں سے کچھ بھی وصول نہ کیا جائے۔“