حدیث نمبر: 7255
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ السُّلَمِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُؤَمَّلِ، ثنا الْفَضْلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، ثنا الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، وَأَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ قَالَا: أنبأ أَبُو عَمْرٍو مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ مَطَرٍ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ الصُّوفِيُّ، ثنا الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى، ثنا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ دَاوُدَ، حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَتَبَ إِلَى أَهْلِ الْيَمَنِ بِكِتَابٍ فِيهِ الْفَرَائِضُ وَالسُّنَنُ وَالدِّيَاتُ وَبَعَثَ بِهِ مَعَ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ وَقُرِئَتْ عَلَى أَهْلِ الْيَمَنِ وَهَذِهِ نُسْخَتُهَا: " بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ مِنْ مُحَمَّدٍ النَّبِيِّ إِلَى شُرَحْبِيلَ بْنِ عَبْدِ كُلَالٍ وَنُعَيْمِ بْنِ عَبْدِ كُلَالٍ وَالْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ كُلَالٍ قِيلَ ذِي رُعَيْنٍ وَمَعَافِرَ وَهَمْدَانَ أَمَّا بَعْدُ، فَقَدْ رُفِعَ رَسُولُكُمْ وَأَعْطَيْتُمْ مِنَ الْمَغَانِمِ خُمْسَ اللهِ وَمَا كَتَبَ اللهُ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ مِنَ الْعُشْرِ فِي الْعَقَارِ مَا سَقَتِ السَّمَاءُ وَكَانَ سَيْحًا أَوْ كَانَ بَعْلًا فَفِيهِ الْعُشْرُ إِذَا بَلَغَ خَمْسَةَ أَوْسُقٍ، وَمَا سُقِيَ بِالرِّشَاءِ وَالدَّالِيَةِ فَفِيهِ نِصْفُ الْعُشْرِ إِذَا بَلَغَ خَمْسَةَ أَوْسُقٍ، وَفِي كُلِّ خَمْسٍ مِنَ الْإِبِلِ سَائِمَةُ شَاةٍ إِلَى أَنْ تَبْلُغَ أَرْبَعًا وَعِشْرِينَ، فَإِذَا زَادَتْ وَاحِدَةً عَلَى أَرْبَعٍ وَعِشْرِينَ فَفِيهَا ابْنَةُ مَخَاضٍ فَإِنْ لَمْ تُوجَدِ ابْنَةُ مَخَاضٍ فَابْنُ لَبُونٍ ذَكَرٌ إِلَى أَنْ تَبْلُغَ خَمْسًا وَثَلَاثِينَ، فَإِذَا زَادَتْ عَلَى خَمْسٍ وَثَلَاثِينَ وَاحِدَةً فَفِيهَا ابْنَةُ لَبُونٍ إِلَى أَنْ تَبْلُغَ خَمْسًا وَأَرْبَعِينَ، فَإِنْ زَادَتْ وَاحِدَةً عَلَى خَمْسٍ وَأَرْبَعِينَ فَفِيهَا حِقَّةٌ طَرُوقَةُ الْجَمَلِ إِلَى أَنْ تَبْلُغَ سِتِّينَ، فَإِنْ زَادَتْ عَلَى سِتِّينَ وَاحِدَةً فَفِيهَا جَذَعَةٌ إِلَى أَنْ تَبْلُغَ ⦗١٥٠⦘ خَمْسًا وَسَبْعِينَ، فَإِنْ زَادَتْ وَاحِدَةً عَلَى خَمْسٍ وَسَبْعِينَ فَفِيهَا ابْنَتَا لَبُونٍ إِلَى أَنْ تَبْلُغَ تِسْعِينَ فَإِنْ زَادَتْ وَاحِدَةً عَلَى التِّسْعِينَ فَفِيهَا حِقَّتَانِ طَرُوقَتَا الْجَمَلِ إِلَى أَنْ تَبْلُغَ عِشْرِينَ وَمِائَةٍ فَمَا زَادَ عَلَى عِشْرِينَ وَمِائَةٍ، فَفِي كُلِّ أَرْبَعِينَ بِنْتُ لَبُونٍ وَفِي كُلِّ خَمْسِينَ حِقَّةٌ طَرُوقَةُ الْجَمَلِ وَفِي كُلِّ ثَلَاثِينَ بَاقُورَةً تَبِيعُ جِذْعٍ أَوْ جَذَعَةٍ، وَفِي كُلِّ أَرْبَعِينَ بَاقُورَةً بَقَرَةٌ وَفِي كُلِّ أَرْبَعِينَ شَاةً سَائِمَةُ شَاةٍ إِلَى أَنْ تَبْلُغَ عِشْرِينَ وَمِائَةٍ، فَإِنْ زَادَتْ عَلَى عِشْرِينَ وَمِائَةٍ وَاحِدَةً فَفِيهَا شَاتَانِ إِلَى أَنْ تَبْلُغَ مِائَتَيْنِ، فَإِنْ زَادَتْ وَاحِدَةً فَفِيهَا ثَلَاثٌ إِلَى أَنْ تَبْلُغَ ثَلَاثَمِائَةٍ، فَإِنْ زَادَتْ فَفِي كُلِّ مِائَةِ شَاةٍ شَاةٌ وَلَا تُؤْخَذُ فِي الصَّدَقَةِ هَرِمَةٌ وَلَا عَجْفَاءُ وَلَا ذَاتُ عَوَارٍ وَلَا تَيْسُ الْغَنَمِ وَلَا يُجْمَعُ بَيْنَ مُتَفَرِّقٍ وَلَا يُفَرَّقُ بَيْنَ مُجْتَمِعٍ خَشْيَةَ الصَّدَقَةِ وَمَا أُخِذَ مِنَ الْخَلِيطَيْنِ فَإِنَّهُمَا يَتَرَاجَعَانِ بَيْنَهُمَا بِالسَّوِيَّةِ وَفِي كُلِّ خَمْسِ أَوَاقٍ مِنَ الْوَرِقِ خَمْسَةُ دَرَاهِمَ، وَمَا زَادَ فَفِي كُلِّ أَرْبَعِينَ دِرْهَمًا دِرْهَمٌ وَلَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسِ أَوَاقٍ شَيْءٌ، وَفِي كُلِّ أَرْبَعِينَ دِينَارًا دِينَارٌ وَإِنَّ الصَّدَقَةَ لَا تَحِلُّ لِمُحَمَّدٍ وَأَهْلِ بَيْتِهِ، إِنَّمَا هِيَ الزَّكَاةُ تُزَكَّى بِهَا أَنْفُسُهُمْ وَلِفُقَرَاءِ الْمُسْلِمِينَ وَفِي سَبِيلِ اللهِ، وَلَيْسَ فِي رَقِيقٍ وَلَا مَزْرَعَةٍ وَلَا عُمَّالِهَا شَيْءٌ إِذَا كَانَتْ تُؤَدِّي صَدَقَتَهَا مِنَ الْعُشْرِ وَإِنَّهُ لَيْسَ فِي عَبْدٍ مُسْلِمٍ وَلَا فِي فَرَسِهِ شَيْءٌ ". قَالَ يَحْيَى: أَفْضَلُ، ثُمَّ قَالَ كَانَ فِي الْكِتَابِ: " إِنَّ أَكْبَرَ الْكَبَائِرِ عِنْدَ اللهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِشْرَاكٌ بِاللهِ وَقَتْلُ النَّفْسِ الْمُؤْمِنَةِ بِغَيْرِ حَقٍّ وَالْفِرَارُ يَوْمَ الزَّحْفِ فِي سَبِيلِ اللهِ وَعُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ وَرَمْيُ الْمُحْصَنَةِ وَتَعَلُّمُ السِّحْرِ وَأَكْلُ الرِّبَا وَأَكْلَ مَالِ الْيَتِيمِ، وَإِنَّ الْعُمْرَةَ الْحَجُّ الْأَصْغَرُ، وَلَا يَمَسُّ الْقُرْآنَ إِلَّا طَاهِرٌ، وَلَا طَلَاقَ قَبْلَ إِمْلَاكٍ، وَلَا عَتَاقَ حَتَّى يُبْتَاعَ، وَلَا يُصَلِّيَنَّ أَحَدُكُمْ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ لَيْسَ عَلَى مَنْكِبِهِ شَيْءٌ وَلَا يَحْتَبِيَنَّ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ لَيْسَ بَيْنَ فَرْجِهِ وَبَيْنَ السَّمَاءِ شَيْءٌ وَلَا يُصَلِّيَنَّ أَحَدُكُمْ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ وَشِقُّهُ بَادٍ، وَلَا يُصَلِّيَنَّ أَحَدٌ مِنْكُمْ عَاقِصٌ شَعْرَهُ " وَكَانَ فِي الْكِتَابِ: " إِنَّ مَنِ اعْتَبَطَ مُؤْمِنًا قَتْلًا عَنْ بَيِّنَةٍ فَإِنَّهُ قَوَدٌ إِلَّا أَنْ يَرْضَى أَوْلِيَاءُ الْمَقْتُولِ، وَإِنَّ فِي النَّفْسِ الدِّيَةَ مِائَةً مِنَ الْإِبِلِ، وَفِي الْأَنْفِ إِذَا أُوعِبَ جَدْعُهُ الدِّيَةُ وَفِي اللِّسَانِ الدِّيَةُ، وَفِيُ الْبَيْضَتَيْنِ الدِّيَةُ وَفِي الذِّكْرِ الدِّيَةُ وَفِي الصُّلْبِ الدِّيَةُ، وَفِي الْعَيْنَيْنِ الدِّيَةُ وَفِي الرِّجْلِ الْوَاحِدَةِ نِصْفُ الدِّيَةِ، وَفِي الْمَأْمُومَةِ ثُلُثُ الدِّيَةِ، وَفِي الْجَائِفَةِ ثُلُثُ الدِّيَةِ، وَفِي الْمُنَقِّلَةِ خَمْسَ عَشْرَةَ مِنَ الْإِبِلِ وَفِي كُلِّ أُصْبُعٍ مِنَ الْأَصَابِعِ مِنَ الْيَدِ وَالرِّجْلِ عَشْرٌ مِنَ الْإِبِلِ، وَفِي السِّنِّ خَمْسٌ مِنَ الْإِبِلِ وَفِي الْمُوضِحَةِ خَمْسٌ مِنَ الْإِبِلِ، وَإِنَّ الرَّجُلَ يُقْتَلُ بِالْمَرْأَةِ وَعَلَى أَهْلِ الذَّهَبِ أَلْفُ دِينَارٍ "⦗١٥١⦘ أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، أَنْبَأَ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ يَقُولُ: سَمِعْتُ أَحْمَدَ بْنَ حَنْبَلٍ وَسُئِلَ عَنْ حَدِيثِ الصَّدَقَاتِ هَذَا الَّذِي يَرْوِيهِ يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ أَصَحِيحٌ هُوَ فَقَالَ: أَرْجُو أَنْ يَكُونَ صَحِيحًا. قَالَ وَسَمِعْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ يَقُولُ وَقَدْ حَدَّثَنَا عَنِ الْحَكَمِ بْنِ مُوسَى عَنْ يَحْيَى بْنِ حَمْزَةَ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ دَاوُدَ عَنِ الزُّهْرِيِّ بِحَدِيثِ الصَّدَقَاتِ فَقَالَ: قَدْ أَخْرَجَ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ هَذَا الْحَدِيثَ فِي مُسْنَدِهِ عَنِ الْحَكَمِ بْنِ مُوسَى عَنْ يَحْيَى بْنِ حَمْزَةَ. قَالَ أَبُو أَحْمَدَ: وَقَدْ رَوَى عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ دَاوُدَ يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ وَصَدَقَةُ بْنُ عَبْدِ اللهِ مِنَ الشَّامِيِّينَ، وَأَمَّا حَدِيثُ الصَّدَقَاتِ فَلَهُ أَصْلٌ فِي بَعْضِ مَا رَوَاهُ مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ فَأُفْسِدَ إِسْنَادُهُ وَحَدِيثُ سُلَيْمَانَ بْنِ دَاوُدَ مُجَوَّدُ الْإِسْنَادِ قَالَ الشَّيْخُ: وَقَدْ أَثْنَى عَلَى سُلَيْمَانَ بْنِ دَاوُدَ الْخَوْلَانِيِّ هَذَا أَبُو زُرْعَةَ الرَّازِيُّ وَأَبُو حَاتِمٍ الرَّازِيُّ وَعُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ وَجَمَاعَةٌ مِنَ الْحُفَّاظِ وَرَأَوْا هَذَا الْحَدِيثَ الَّذِي رَوَاهُ فِي الصَّدَقَةِ مَوْصُولَ الْإِسْنَادِ حَسَنًا وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ

ابوبکر بن محمد بن عمرو بن حزم اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا (عمرو بن حزم رضی اللہ عنہ) سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اہل یمن کی طرف فرائض، سنن اور دیات کی تحریر لکھی اور عمرو بن حزم رضی اللہ عنہ کو ساتھ روانہ کیا۔ جس نے اہل یمن کو وہ تحریر سنائی، وہ یہ تھی: ”«بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ» ”اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان، ہمیشہ رحم فرمانے والا ہے“، اللہ کے نبی محمد ﷺ کی طرف سے شرحبیل بن عبد کلال، نعیم بن کلال اور حارث بن عبد کلال کی طرف اور یہ رعین، معاف اور ہمدان والوں کے لیے فریضہ ہے۔ مجھے تمہارے رسول نے تمہاری طرف بھیجا ہے اور تم سے غنائم میں سے اللہ کا خمس وصول کیا ہے۔ اور جو اللہ نے اہل یمن پر عشر مقرر کیا ہے وہ یہ ہے کہ بارانی زمین میں جس کو آسمان سیراب کرتا ہے چاہے وہ نخلستان ہو یا زرعی پیداوار، ان میں عشر ہے جب وہ پانچ وسق ہو جائیں اور جو نہروں اور کنوؤں سے پلائی جائے تو اس میں نصف عشر ہوگا جب اس کا وزن پانچ وسق (20 من) ہو، اور چرنے والے پانچ اونٹوں میں ایک بکری ہے جب تک وہ چوبیس ہو جائیں۔ جب چوبیس سے ایک زیادہ ہو جائے تو اس میں بنت مخاض ہے۔ اگر بنت مخاض میسر نہ ہو تو پھر ابن لبون (دو سالہ مذکر) ہے۔ جب تک ان کی تعداد پینتیس نہ ہو جائے، اگر پینتیس سے ایک زائد ہو جائے تو پینتالیس تک بنت لبون ہے اور جب ایک زیادہ ہو جائے تو ساٹھ تک حقہ ہے اور اگر ساٹھ سے ایک زائد ہو جائے تو پچھتر تک جذعہ ہے اور جب پچھتر سے ایک زائد ہو جائے تو نوے تک دو بنت لبون ہیں اور جب نوے سے ایک زائد ہو تو ایک سو بیس تک دو حقے ہیں جو جفتی کے قابل ہوں، پھر جب ایک سو بیس سے زائد ہو جائیں تو ہر چالیس میں بنت لبون اور ہر پچاس میں حقہ ہے جو اونٹ کو قبول کرے، اور تیس گائے میں (تبیع) ایک سالہ بچھڑا یا بچھیا ہے اور چالیس گائے میں ایک گائے ہے اور چالیس چرنے والی بکریوں میں ایک سو بیس تک ایک بکری ہے۔ اگر ایک سو بیس سے زیادہ ہوں تو دو سو تک دو بکریاں ہیں اور اس سے زیادہ ہوں تو تین سو تک تین بکریاں ہیں، اگر اس سے زیادہ ہوں تو ہر سو میں ایک بکری ہے اور زکوٰۃ میں بوڑھی بکری، عیب والی اور سانڈ نہ دیا جائے اور جدا جدا کو اکٹھا نہ کیا جائے اور نہ ہی اکٹھی چرنے والیوں کو جدا جدا کیا جائے زکوٰۃ کے خوف سے اور جو شراکت داروں سے لیا جائے وہ اسے اپنے میں برابر برابر تقسیم کریں گے اور ہر پانچ اوقیہ چاندی میں پانچ درہم ہیں اور جو زیادہ ہوں تو ہر چالیس درہم میں ایک درہم ہے اور پانچ اوقیہ سے کم میں کچھ بھی نہیں اور ہر چالیس دینار میں ایک دینار ہے اور یقین جانو کہ محمد ﷺ اور ان کے اہل بیت کے لیے صدقہ حلال نہیں، بیشک یہ زکوٰۃ ہے جو لوگوں کی پاکیزگی کے لیے ہے اور محتاج مؤمنین کے لیے اللہ کی راہ ہے۔ غلام، کھیتی اور عمال میں کوئی حرج نہیں، جب ان کا صدقہ عشر ادا کیا جائے اور یہ زکوٰۃ غلام میں بھی نہیں اور نہ ہی اس کے گھوڑے میں ہے۔“
پھر انہوں نے کہا کہ اس تحریر میں یہ بھی تھا: ”قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے نزدیک کبیرہ گناہوں میں اللہ کے ساتھ شریک ٹھہرانا ہے اور ناحق مؤمن جان کا قتل کرنا ہے، جہاد کرتے ہوئے میدانِ جنگ سے بھاگنا ہے اور والدین کی نافرمانی ہے اور پاک دامن پر تہمت لگانا ہے اور جادو سیکھنا اور سود کھانا اور یتیم کا مال کھانا ہے۔ بیشک عمرہ وہ حجِ اصغر ہے اور قرآن کو بغیر طہارت ہاتھ نہ لگایا جائے اور ملکیت میں آئے بغیر طلاق نہیں ہے اور خریدنے کے بغیر آزادی نہیں اور تم میں سے کوئی ایک کپڑے میں نماز نہ پڑھے اس حال میں کہ اس کے کندھوں پر کپڑا نہ ہو اور نہ گوٹھ مارے کوئی ایک کپڑے میں اس حال میں کہ اس کی شرمگاہ اور آسمان کے درمیان کپڑا نہ ہو، اور نہ نماز پڑھے تم میں سے کوئی ایک کپڑے میں اس حال میں کہ اس کی ایک طرف کھلی ہو اور نہ نماز پڑھے کوئی تم میں سے اس حال میں کہ وہ اپنے بالوں کو سمیٹنے والا ہو۔“ اس تحریر میں یہ بھی تھا: ”جس نے کسی سچے مؤمن کو بلا وجہ قتل کیا تو وہ قصاص میں قتل کیا جائے گا، مگر اس صورت میں کہ مقتول کے ورثا راضی ہو جائیں اور بیشک ایک نفس کی دیت سو اونٹ ہے اور ناک میں جسے جڑ سے کاٹ دیا گیا ہو مکمل دیت ہے اور زبان میں بھی دیت ہے، دونوں ہونٹوں میں بھی دیت ہے اور دونوں خصیوں میں بھی دیت ہے اور ذکر (عضوِ تناسل) میں بھی دیت ہے اور پیٹھ (ریڑھ کی ہڈی) میں بھی دیت ہے، دونوں آنکھوں میں بھی دیت ہے، ایک ٹانگ میں آدھی دیت ہے، سر کے ایسے زخم میں جو دماغ کی جھلی تک پہنچ جائے تہائی دیت ہے اور پیٹ کے زخم کی تہائی دیت ہے اور ہڈی توڑ زخم میں پندرہ اونٹ ہیں، ہاتھ یا پاؤں کی ایک انگلی کے دس اونٹ ہیں اور دانت کی دیت پانچ اونٹ اور اس زخم کی دیت جو ہڈی ظاہر کر دے پانچ اونٹ ہیں اور عورت کے بدلے مرد کو قتل کیا جائے گا اور سونے (دینار) والوں پر ایک ہزار دینار دیت ہے۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الزكاة / حدیث: 7255
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف۔ أخرجه النسائي»