السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الزكاة— زکوۃ کا بیان
باب: تفسير الكنز الذي ورد الوعيد فيه باب: اس خزانے کی تفسیر کا بیان جس کے بارے میں وعید وارد ہوئی ہے
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ السُّكَّرِيُّ، بِبَغْدَادَ أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا عَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ اللهِ التَّرْقُفِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَعْلَى بْنِ الْحَارِثِ، ثنا أَبِي، ثنا غَيْلَانُ يَعْنِي ابْنَ جَامِعٍ، عَنْ عُثْمَانَ أَبِي الْيَقْظَانِ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ إِيَاسٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ: {وَالَّذِينَ يَكْنِزُونَ الذَّهَبَ وَالْفِضَّةَ} [التوبة: ٣٤] كَبُرَ ذَلِكَ عَلَى الْمُسْلِمِينَ وَقَالُوا مَا يَسْتَطِيعُ أَحَدٌ مِنَّا يَدَعُ لِوَلَدِهِ مَالًا يَبْقَى بَعْدَهُ، فَقَالَ عُمَرُ: أَنَا أُفَرِّجُ عَنْكُمْ، قَالُوا: فَانْطَلَقَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَاتَّبَعَهُ ثَوْبَانُ فَأَتَيَا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللهِ إِنَّهَ قَدْ كَبُرَ عَلَى أَصْحَابِكَ هَذِهِ الْآيَةُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ لَمْ يَفْرِضِ الزَّكَاةَ إِلَّا لِيُطَيِّبَ بِهَا مَا بَقِيَ مِنْ أَمْوَالِكُمْ وَإِنَّمَا فَرَضَ الْمَوَارِيثَ فِي أَمْوَالٍ تَبْقَى بَعْدَكُمْ " قَالَ: فَكَبَّرَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ثُمَّ قَالَ: " أَلَا أُخْبِرُكَ بِخَيْرِ مَا يَكْنِزُ الْمَرْءُ؟ الْمَرْأَةُ الصَّالِحَةُ إِذَا نَظَرَ إِلَيْهَا سَرَّتْهُ وَإِذَا أَمَرَهَا أَطَاعَتْهُ وَإِذَا غَابَ عَنْهَا حَفِظَتْهُ ".عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: جب یہ آیت نازل ہوئی: ﴿وَالَّذِينَ يَكْنِزُونَ الذَّهَبَ وَالْفِضَّةَ﴾ [سورة التوبة: 34] ”جو لوگ سونے اور چاندی کو جمع کرتے ہیں“ تو یہ آیت مسلمانوں پر گراں گزری۔ انہوں نے کہا: ہم میں سے کوئی بھی طاقت نہیں رکھتا کہ وہ اپنے بچے کے لیے کوئی مال چھوڑے جو اس کے بعد باقی رہے، تو عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں اس پریشانی کو حل کرتا ہوں، تو عمر رضی اللہ عنہ اور ثوبان رضی اللہ عنہ دونوں نبی کریم ﷺ کے پاس آئے اور کہا: اے اللہ کے نبی! آپ کے صحابہ پر یہ آیت گراں گزری ہے، تو نبی ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے زکوٰۃ صرف اس لیے فرض کی ہے کہ تمہارے مالوں کو پاک کر دے جو مال باقی بچ رہے اور بیشک اس نے تمہارے باقی رہنے والے اموال میں وراثت مقرر کر دی ہے“، تو عمر رضی اللہ عنہ نے تکبیر بلند کی، پھر (نبی ﷺ نے) فرمایا: ”کیا میں تمہیں اس سے بہتر خزانے کی خبر نہ دوں جو انسان جمع کرتا ہے؟ وہ نیک بیوی ہے، جسے تو دیکھے تو خوش ہو جائے، اسے حکم دے تو وہ فرماں برداری کرے اور جب وہ غائب ہو تو وہ عورت اس کے مال و عزت کی حفاظت کرے۔“