السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الزكاة— زکوۃ کا بیان
باب: تفسير الكنز الذي ورد الوعيد فيه باب: اس خزانے کی تفسیر کا بیان جس کے بارے میں وعید وارد ہوئی ہے
حدیث نمبر: 7234
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو عُتْبَةَ أَحْمَدُ بْنُ الْفَرَجِ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ كَثِيرِ بْنِ دِينَارٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مُهَاجِرٍ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ عَجْلَانَ، ثنا عَطَاءٌ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، أَنَّهَا كَانَتْ تَلْبَسُ أَوْضَاحًا مِنْ ذَهَبٍ فَسَأَلَتْ عَنْ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: أَكَنْزٌ هُوَ؟ فَقَالَ: " إِذَا أَدَّيْتِ زَكَاتَهُ فَلَيْسَ بِكَنْزٍ ".حافظ ثناء اللہ
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ وہ سونے کے پازیب پہنتی تھیں، میں نے رسول اللہ ﷺ سے اس کے بارے میں پوچھا کہ کیا یہ «كَنْزٌ» ہے؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”جب تو اس کی زکوٰۃ ادا کر دے تو پھر وہ «كَنْزٌ» نہیں ہے۔“