السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجنائز— کتاب الجنائز
باب: من كره النعي والإيذان والقدر الذي لا يكره منه باب: اس شخص کا بیان جس نے موت کی خبر دینے اور اعلان کرنے کو مکروہ سمجھا ہے اور اس مقدار کا بیان جس میں کراہت نہیں ہے
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ثنا مُسْلِمُ بْنُ قُتَيْبَةَ، ثنا حَبِيبٌ يَعْنِي ابْنَ سُلَيْمٍ الْعَبْسِيَّ، ثنا بِلَالٌ الْعَبْسِيُّ، قَالَ: كَانَ حُذَيْفَةُ إِذَا كَانَتْ فِي أَهْلِهِ جِنَازَةٌ لَمْ يُؤْذِنْ بِهَا أَحَدًا وَيَقُولُ: " إِنِّي أَخَافُ أَنْ يَكُونَ نَعْيًا إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى عَنِ النَّعْيِ " ⦗١٢٤⦘ وَيُرْوَى فِي ذَلِكَ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ وَابْنِ عُمَرَ، وَأَبِي سَعِيدٍ ثُمَّ عَنْ عَلْقَمَةَ، وَابْنِ الْمُسَيِّبِ وَالرَّبِيعِ بْنِ خَيْثَمٍ، وَإِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ وَبَلَغَنِي عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ أَنَّهُ قَالَ: لَا أُحِبُّ الصِّيَاحَ لِمَوْتِ الرَّجُلِ عَلَى أَبْوَابِ الْمَسَاجِدِ وَلَوْ وَقَفَ عَلَى حِلَقِ الْمَسَاجِدِ فَأَعْلَمَ النَّاسِ بِمَوْتِهِ لَمْ يَكُنْ بِهِ بَأْسٌ وَرُوِّينَا عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَعَى جَعْفَرًا وَزَيْدًا وَابْنَ رَوَاحَةَ وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَعَى النَّجَاشِيَّ وَعَنْهُ فِي مَوْتِ الْإِنْسَانِ الَّذِي كَانَ يَقُمُّ الْمَسْجِدَ وَدُفِنَ لَيْلًا أَفَلَا كُنْتُمْ آذَنْتُمُونِي وَفِي رِوَايَةٍ مَا مَنَعَكُمْ أَنْ تُعْلِمُونِي؟.بلال عبسی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کے گھر والوں میں جب کوئی فوت ہو جاتا تو وہ اس کی کسی کو اطلاع نہ دیتے اور فرماتے: ”مجھے ڈر ہے کہ یہ نعی (موت کا اعلان) نہ ہو، میں نے رسول اللہ ﷺ کو نعی سے منع کرتے ہوئے سنا ہے۔“
اس بارے میں سیدنا ابن مسعود، سیدنا ابن عمر اور سیدنا ابو سعید رضی اللہ عنہم سے، پھر علقمہ، ابن مسیب، ربیع بن خثیم اور ابراہیم نخعی رحمہم اللہ سے بھی روایت کیا جاتا ہے۔ مالک بن انس رحمہ اللہ سے مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ انہوں نے فرمایا: کسی آدمی کی موت پر مسجدوں کے دروازوں پر چیخنا مجھے پسند نہیں، اور اگر کوئی مسجدوں کے حلقوں کے پاس کھڑا ہو کر لوگوں کو اس کی موت کی اطلاع دے دے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے ہمیں روایت پہنچی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے جعفر، زید اور ابن رواحہ رضی اللہ عنہم کی موت کی خبر دی، اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہ نبی کریم ﷺ نے نجاشی کی موت کی خبر دی، اور انہی سے اس آدمی کی موت کے بارے میں جو مسجد میں جھاڑو دیا کرتا تھا اور رات کو دفن کر دیا گیا: ”تم نے مجھے اطلاع کیوں نہیں دی؟“ اور ایک روایت میں ہے: ”تمہیں مجھے آگاہ کرنے سے کس چیز نے روکا؟“