السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجنائز— کتاب الجنائز
باب: سياق أخبار تدل على أن الميت يعذب بالنياحة عليه وما روي عن عائشة رضي الله عنها في ذلك. باب: ان احادیث کا بیان جو اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ میت کو اس پر نوحہ کیے جانے کی وجہ سے عذاب دیا جاتا ہے اور اس بارے میں جو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے اس کا بیان
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنِ الشَّافِعِيِّ، رَحِمَهُ اللهُ قَالَ: وَمَا رَوَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَشْبَهُ أَنْ يَكُونَ مَحْفُوظًا عَنْهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِدَلَالَةِ الْكِتَابِ ثُمَّ السُّنَّةِ فَإِنْ قِيلَ وَأَيْنَ دَلَالَةُ الْكِتَابِ قِيلَ فِي قَوْلِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ {لَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى} [الأنعام: ١٦٤] وَقَوْلِهِ {وَأَنْ لَيْسَ لِلْإِنْسَانِ إِلَّا مَا سَعَى} [النجم: ٣٩] وَقَوْلِهِ {فَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ وَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُ} [الزلزلة: ٨] وَقَوْلِهِ {لِتُجْزَى كُلُّ نَفْسٍ بِمَا تَسْعَى} [طه: ١٥] فَإِنْ قِيلَ فَأَيْنَ دَلَالَةُ السُّنَّةِ؟ قِيلَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِرَجُلٍ: " هَذَا ابْنُكَ " قَالَ: نَعَمْ قَالَ: " أَمَا إِنَّهُ لَا يَجْنِي عَلَيْكَ وَلَا تَجْنِي عَلَيْهِ ". فَأَعْلَمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَ مَا أَعْلَمَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ أَنَّ جِنَايَةَ كُلِّ امْرِئٍ عَلَيْهِ، كَمَا عَمَلُهُ لَهُ لَا لِغَيْرِهِ وَلَا عَلَيْهِ. قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَعُمْرَةُ أَحْفَظُ عَنْ عَائِشَةَ مِنَ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ وَحَدِيثُهَا أَشْبَهُ الْحَدِيثَيْنِ أَنْ يَكُونَ مَحْفُوظًا فَإِنْ كَانَ الْحَدِيثُ عَلَى غَيْرِ مَا رَوَى ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ مِنْ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " إِنَّهُمْ لَيَبْكُونَ عَلَيْهَا وَإِنَّهَا لَتُعَذَّبُ فِي قَبْرِهَا " فَهُوَ وَاضِحٌ لَا يَحْتَاجُ إِلَى تَفْسِيرٍ لِأَنَّهَا تُعَذَّبُ بِالْكُفْرِ وَهَؤُلَاءِ يَبْكُونَ وَلَا يَدْرُونَ مَا هِيَ فِيهِ وَإِنْ كَانَ الْحَدِيثُ كَمَا رَوَى ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ فَهُوَ صَحِيحٌ لِأَنَّ عَلَى الْكَافِرِ عَذَابًا أَعْلَى مِنْهُ فَإِنْ عُذِّبَ بِدُونِهِ فَزِيدَ فِي عَذَابِهِ فِيمَا اسْتَوْجَبَ وَمَا نِيلَ مِنْ كَافِرٍ مِنْ عَذَابٍ أَدْنَى مِنْ أَعْلَى مِنْهُ وَمَا زِيدَ عَلَيْهِ مَنَ الْعَذَابِ فَبِاسْتِيجَابِهِ لَا بِذَنْبِ غَيْرِهِ فِي بُكَائِهِ عَلَيْهِ فَإِنْ قِيلَ: يَزِيدُهُ عَذَابًا بِبُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ، قِيلَ: يَزِيدُ بِمَا اسْتَوْجَبَ بِعَمَلِهِ وَيَكُونُ بُكَاؤُهُمْ سَبَبًا لَا أَنَّهُ يُعَذَّبُ بِبُكَائِهِمْ عَلَيْهِ وَفِيمَا بَلَغَنِي عَنْ أَبِي إِبْرَاهِيمَ الْمُزَنِيِّ أَنَّهُ قَالَ: بَلَغَنِي أَنَّهُمْ كَانُوا يُوصُونَ بِالْبُكَاءِ عَلَيْهِمْ أَوْ بِالنِّيَاحَةِ أَوْ بِهِمَا وَذَلِكَ مَعْصِيَةٌ فَمَنْ أَمَرَ بِهَا فَعَمِلَتْ بِأَمْرِهِ كَانَتْ لَهُ ذَنْبًا كَمَا لَوْ أَمَرَ بِطَاعَةٍ فَعَمِلَتْ بَعْدَهُ كَانَتْ لَهُ طَاعَةٌ فَكَمَا يُؤْجَرُ بِمَا هُوَ سَبَبٌ لَهُ مِنَ الطَّاعَةِ فَكَذَلِكَ يَجُوزُ أَنْ يُعَذَّبَ بِمَا هُوَ سَبَبٌ لَهُ مِنَ الْمَعْصِيَةِ وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ.امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جو روایت سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ ﷺ سے نقل کی ہے اس سے زیادہ محفوظ اور کوئی روایت نہیں کتاب اللہ اور سنت کی دلالت کی وجہ سے۔ اگر یہ کہا جائے کہ کتاب سے دلیل کیا ہے؟ تو وہ یہ ہے: ﴿وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى﴾ [سورة الإسراء: 15] اور یہ: ﴿وَأَنْ لَيْسَ لِلْإِنْسَانِ إِلَّا مَا سَعَى﴾ [سورة النجم: 39] اور یہ فرمان: ﴿فَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ * وَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُ﴾ [سورة الزلزلة: 7-8] اور یہ فرمان: ﴿لِتُجْزَى كُلُّ نَفْسٍ بِمَا تَسْعَى﴾ [سورة طه: 15] کہ ہر جان کو وہی بدلہ ملے گا جو اس نے کیا اور سنت سے دلیل یہ کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک آدمی کو فرمایا: ”یہ تیرا بیٹا ہے؟“ تو اس نے کہا: ہاں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس کے گناہ تجھ پر نہیں ڈالے جائیں گے اور تیرے گناہ اس پر نہیں ڈالے جائیں گے۔“ سو جان لو کہ رسول اللہ ﷺ نے وہی بتایا جو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہر آدمی کے گناہ اسی پر ہیں، جیسے وہ اعمال کرے گا نہ کسی پر ہوں گے اور نہ کسی کے اس پر ہوں گے۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عمرہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے (روایت) یاد رکھنے میں ابن ابی ملیکہ سے زیادہ پختہ ہیں اور ان کی روایت دونوں روایتوں میں سے محفوظ ہونے کے زیادہ قریب ہے۔ اگر حدیث ابن ابی ملیکہ کی روایت کے برعکس نبی کریم ﷺ کا یہ ارشاد ہو کہ: ”وہ اس پر رو رہے ہیں اور اسے قبر میں عذاب ہو رہا ہے“ تو یہ بات واضح ہے، تفسیر کی کوئی حاجت نہیں، کیونکہ اسے کفر کی وجہ سے عذاب کیا جا رہا ہے اور یہ رو رہے ہیں، انہیں اس کا علم نہیں کہ اس کے ساتھ کیا ہو رہا ہے۔ اور اگر حدیث ویسے ہی ہو جیسے ابن ابی ملیکہ نے بیان کیا ہے تو وہ بھی صحیح ہے، کیونکہ کافر پر اس سے بڑا عذاب واجب ہے، اگر اسے اس سے کم عذاب دیا جا رہا ہو اور پھر اس کے عذاب میں اضافہ کیا جائے تو وہ اسی میں ہے جس کا وہ مستحق ہے۔ کافر کو جو عذاب ملتا ہے وہ اس بڑے عذاب سے کم ہے اور جو عذاب اس پر بڑھایا جاتا ہے وہ اس کے اپنے استحقاق کی وجہ سے ہے، نہ کہ اس پر رونے والے کسی دوسرے کے گناہ کی وجہ سے۔ اگر یہ کہا جائے کہ اللہ اس کے گھر والوں کے رونے کی وجہ سے اس کے عذاب میں اضافہ کرتا ہے، تو جواب یہ ہے کہ وہ اس عذاب میں اضافہ کرتا ہے جس کا وہ اپنے عمل کی وجہ سے مستحق ہوا اور ان کا رونا محض ایک سبب ہوتا ہے، نہ یہ کہ اسے ان کے رونے کی وجہ سے عذاب دیا جاتا ہے۔ اور ابو ابراہیم مزنی رحمہ اللہ سے مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ انہوں نے کہا: مجھے یہ معلوم ہوا ہے کہ وہ اپنے اوپر رونے کی وصیت کیا کرتے تھے یا نوحہ کرنے کی یا پھر دونوں کی اور یہ نافرمانی ہے۔ سو جس نے اس کا حکم دیا اور اس کے حکم پر عمل کیا گیا تو یہ اس کے لیے گناہ ہوگا، جیسے اگر وہ اطاعت کا حکم دیتا اور اس کے بعد اس پر عمل کیا جاتا تو وہ اس کے لیے اطاعت ہوتی، تو جس طرح اسے اس اطاعت پر اجر ملتا ہے جس کا وہ سبب بنا، اسی طرح یہ بھی جائز ہے کہ اسے اس نافرمانی پر عذاب دیا جائے جس کا وہ سبب بنا، وباللہ التوفیق۔