❮
❯
حدیث نمبر: 7180
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْبِرْتِيُّ الْقَاضِي، ثنا مُسْلِمٌ يَعْنِي ابْنَ إِبْرَاهِيمَ، ثنا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ الْوَاشِحِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ يَعْنِي ابْنَ رَافِعٍ، عَنْ جَدَّتِهِ، أَنَّ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ، مَاتَ بَعْدَ الْعَصْرِ فَأُتِيَ ابْنُ عُمَرَ فَأُخْبِرَ بِمَوْتِهِ، فَقِيلَ لَهُ مَا تَرَى أَيُخْرَجُ بِجِنَازَتِهِ السَّاعَةَ فَقَالَ: " إِنَّ مِثْلَ رَافِعٍ لَا يُخْرَجُ بِهِ حَتَّى يُؤْذَنَ بِهِ مَنْ حَوْلِنَا مِنَ الْقُرَى فَأَصْبِحُوا وَاخْرُجُوا بِجِنَازَتِهِ ".
حافظ ثناء اللہ

ابن رافع اپنی دادی سے نقل فرماتے ہیں کہ سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ عصر کے بعد فوت ہوئے۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کو ان کی موت کی خبر دی گئی اور ان سے کہا گیا کہ کیا خیال ہے ان کا جنازہ ابھی نکالا جائے؟ تو سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: رافع جیسے آدمیوں کا جنازہ نہیں نکالا جا سکتا جب تک قریب کی بستیوں میں اعلان نہ کر دیا جائے، لہٰذا صبح تک ٹھہرو اور پھر ان کا جنازہ لے کر نکلو۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجنائز / حدیث: 7180
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف۔ أخرجه الطبراني»